بنگلہ دیش نے بھارت سے جبری بیدخل کی گئی حاملہ خاتون کو بی ایس ایف کے حوالے کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
بنگلہ دیش بارڈر گارڈز (بی جی بی) نے بھارتی خاتون سونالی کو بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے حوالے کردیا ہے، خاتون کو دو طرفہ سرحدی افواج کی رسمی فلیگ میٹنگ کے دوران حوالے کیا گیا۔
بی جی بی کے مطابق یہ واقعہ 25 جون 2025 کا ہے، جب 6 بھارتی شہری، جن میں 35 ہفتے کی حاملہ سونالی خاتون اور ان کے 2 نابالغ بچے شامل تھے، کو بی ایس ایف نے کوراگرام سرحد کے ذریعے جبراً بنگلہ دیش میں دھکیل دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا حسینہ واجد کے بیانات اور میڈیا پروپیگنڈے پر بھارت سے احتجاج
چپائن نواب گنج میں داخل ہونے کے بعد انہیں مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غیر قانونی داخلے کے الزام میں حراست میں لے لیا اور بعد ازاں عدالت کے حکم پر 22 اگست کو جیل بھیج دیا گیا۔
2 دسمبر 2025 کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بنگلہ دیش کی عدالت نے انہیں عارضی مقامی تحویل میں دینے اور سفارتی چینلز کے ذریعے وطن واپس بھیجنے کی ہدایت کی۔
وزارت داخلہ بنگلہ دیش اور بی جی بی ہیڈکوارٹر نے بھارت کے ساتھ کثیرالجہتی سفارتی رابطے شروع کیے، جن میں حاملہ خاتون اور نابالغ بچوں کے دھکیلنے سے انسانی حقوق کے خطرات اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا۔ بعد ازاں دونوں فریقین نے ان کی واپسی کو آسان بنانے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ حسینہ کی برطرفی نے بنگلہ دیش میں بھارت کی مداخلت ختم کردی، بنگلہ دیشی صحافی
بی جی بی کے مطابق واپسی کا عمل احترام اور تحفظ کے ساتھ انجام دیا گیا تاکہ خاتون اور اس کے بچے کی سلامتی یقینی بنائی جاسکے۔
لیفٹیننٹ کرنل غلام کبریا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس ایف کے دھکیلنے کے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار اور دو طرفہ سرحدی انتظامی معاہدوں کی واضح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سرحد پر بار بار انسانی ہمدردی کے بحران پیدا کرتے ہیں اور دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش نے انسانی ہمدردی، بین الاقوامی قانون اور پڑوسی تعاون کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے، خاص طور پر حاملہ خاتون اور ان کے بچوں کے صحت کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے عمل کو شفاف، محفوظ اور باعزت انداز میں انجام دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سِلہٹ بارڈر کے قریب بنگلہ دیشی شہری ہلاک، بھارتی قبائلی افراد پر الزام
بی جی بی نے امید ظاہر کی کہ بی ایس ایف مستقبل میں ایسے غیر انسانی اقدامات سے باز آئے گی اور زیادہ انسانی اور قانونی سرحدی انتظام کے لیے کام کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارڈر سیکیورٹی فورس بنگلہ دیش بنگلہ دیش بارڈر گارڈز بھارت حاملہ خاتون سونالی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بارڈر سیکیورٹی فورس بنگلہ دیش بنگلہ دیش بارڈر گارڈز بھارت حاملہ خاتون سونالی حاملہ خاتون بی ایس ایف بنگلہ دیش خاتون اور
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔