ڈاکٹر معظم علی خان گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدر آباد کے وائس چانسلر مقرر
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
ڈاکٹر معظم علی خان۔فوٹو: فائل
جامعہ کراچی کے سابق رجسٹرار ڈاکٹر معظم علی خان کو سندھ کے دوسرے بڑے شہر میں قائم واحد صوبائی سرکاری جامعہ گورنمٹ کالج یونیورسٹی حیدر آباد کا وائس چانسلر مقرر کر دیا گیا ہے جس کا باقاعدہ نوٹفکیشن جاری کر دیا گیا۔
ڈاکٹر معظم علی خان پیر کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے، تلاش کمیٹی نے گورنمٹ کالج یونیورسٹی حیدر آباد کے عہدے کے لیے تین امیدواروں کے ناموں کا انتخاب کیا تھا۔
چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر طارق رفیع کی سربراہی میں تلاش کمیٹی کے اجلاس میں جامعہ کراچی کے سابق رجسٹرار اور انسٹیٹیوٹ آف انوائرنمنٹل اسٹڈیز کے سابق ڈائریکٹر معظم علی خان کو پہلے نمبر پر رکھا گیا تھا۔
جب کہ میر پورخاص کیمپس کے سابق پی وی سی اور آئی بی اے سندھ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر امام الدین کھوسو کو دوسرے اور آئی بی اے سکھر یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر میر محمد شاہ کو تیسرے نمبر پر رکھا گیا تھا۔
گورنمٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد کے لیے 164 امیدواروں نے درخواستیں دی تھیں جن میں سے 130 کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا اور امیدواروں کے انٹرویوز کئی روز تک جاری رہے۔
ان تین ناموں کو انٹیلیجنس کلیئرنس کے لیے ملک کی تین معتبر ایجنسیوں کو بھیجا گیا تھا جن کی کلیئرنس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے پہلے نمبر پر آنے والے معظم علی خان کو بطور وائس چانسلر مقرر کرنے کی منظوری دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر معظم علی خان کالج یونیورسٹی وائس چانسلر کے سابق گیا تھا
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔