افغان پاسپورٹس پر امریکی ویزے اور اسائلم کی درخواستوں پر کام بند WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز

واشنگٹن (آئی پی ایس) امریکا نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے تمام افراد کے لیے ویزوں کا اجرا اچانک روک دیا جب کہ پناہ کے خواہشمندوں کی اسائلم درخواستوں پر فیصلے بھی معطل کر دیے۔

عالمی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھتے ہوئے کیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معاملات کو فوری طور پر مؤخر کردیا گیا ہے۔

محکمہ خارجہ کے اعلان کے ساتھ ہی یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے بھی اپنے فیصلے روکنے کا حکم جاری کردیا، جس کے مطابق کسی بھی غیر ملکی کی اسکریننگ اور سیکیورٹی جانچ مکمل ہونے تک کوئی فیصلہ آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔

ادارے کے ڈائریکٹر جوزیف ایڈلو نے واضح کیا کہ مکمل تسلی کے بغیر کسی بھی شخص کی درخواست پر کارروائی نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ تیسری دنیا کے ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ایسے افراد کی شہریت بھی منسوخ کی جائے گی جو اندرونی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ صورتحال اس واقعے کا نتیجہ ہے، جس میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرتے ہوئے ایک افغان نژاد شخص نے نیشنل گارڈز کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں ایک خاتون نیشنل گارڈ ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔

امریکی میڈیا کے مطابق مبینہ حملہ آور افغان شہری 2021 میں ری سیٹلمنٹ پروگرام کے ذریعے امریکا آیا تھا۔ اس پوری صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے امریکی اداروں نے امیگریشن سے متعلق سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی دفتر خزانہ اسلام آباد میں منظم بے ضابطگیوں کا میگا اسکینڈل بے نقاب وفاقی دفتر خزانہ اسلام آباد میں منظم بے ضابطگیوں کا میگا اسکینڈل بے نقاب پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے اسرائیل کا حماس کی سرنگوں میں اب تک 30 فلسطینیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ جیل قانون کے مطابق سپیریئر قیدی کو سیاسی ملاقاتوں کی اجازت نہیں، بیرسٹر عقیل ملک چیف آف دی ایئر اسٹاف سرینا ہوٹلز بین الاقوامی اسکواش چیمپئن شپ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے این ایچ اے افسران کو کرپشن الزامات پر ڈی چوک میں لٹکانے کا مطالبہ کردیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا