افغان پاسپورٹس پر امریکی ویزے اور اسائلم کی درخواستوں پر کام بند
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
امریکا نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے تمام افراد کے لیے ویزوں کا اجرا اچانک روک دیا جب کہ پناہ کے خواہشمندوں کی اسائلم درخواستوں پر فیصلے بھی معطل کر دیے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھتے ہوئے کیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معاملات کو فوری طور پر مؤخر کردیا گیا ہے۔
The Department of State has IMMEDIATELY paused visa issuance for individuals traveling on Afghan passports.
The Department is taking all necessary steps to protect U.S. national security and public safety. — Department of State (@StateDept) November 28, 2025
محکمہ خارجہ کے اعلان کے ساتھ ہی یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے بھی اپنے فیصلے روکنے کا حکم جاری کردیا، جس کے مطابق کسی بھی غیر ملکی کی اسکریننگ اور سیکیورٹی جانچ مکمل ہونے تک کوئی فیصلہ آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔
ادارے کے ڈائریکٹر جوزیف ایڈلو نے واضح کیا کہ مکمل تسلی کے بغیر کسی بھی شخص کی درخواست پر کارروائی نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ تیسری دنیا کے ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ایسے افراد کی شہریت بھی منسوخ کی جائے گی جو اندرونی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
USCIS has halted all asylum decisions until we can ensure that every alien is vetted and screened to the maximum degree possible. The safety of the American people always comes first.
— USCIS Director Joseph B. Edlow (@USCISJoe) November 28, 2025یاد رہے کہ یہ صورتحال اس واقعے کا نتیجہ ہے، جس میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرتے ہوئے ایک افغان نژاد شخص نے نیشنل گارڈز کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں ایک خاتون نیشنل گارڈ ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔
امریکی میڈیا کے مطابق مبینہ حملہ آور افغان شہری 2021 میں ری سیٹلمنٹ پروگرام کے ذریعے امریکا آیا تھا۔ اس پوری صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے امریکی اداروں نے امیگریشن سے متعلق سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کیا امریکیوں پر حملہ آور افغان دہشتگرد سی آئی اے کے لیے خدمات انجام دیتا رہا؟
وائٹ ہاؤس کے قریب 3 نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے میں گرفتار افغان شہری رحمان اللہ لکانوال کے بارے میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق 29 سالہ لکانوال افغانستان میں امریکی حکومت کے مختلف اداروں، خصوصاً سی آئی اے، کے ساتھ بطور ’پارٹنر فورس‘ کام کر چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاؤس کے نزدیک نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنیوالا رحمان اللہ لکنوال کون ہے؟
فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق لکانوال ستمبر 2021 میں ’آپریشن الائز ویلکم‘ کے تحت امریکا پہنچا، جو افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر منتقلی کا پروگرام تھا۔ انٹیلی جنس ذرائع نے تصدیق کی کہ لکانوال نے قندھار میں امریکی خفیہ اداروں کے ساتھ قریبی طور پر خدمات انجام دیں۔
RAW’s overseas influence web is getting exposed layer by layer.
Rahmanullah Lakanwal; a former ANA officer who moved to the U.S. in 2021 became one of RAW’s key handlers, funding PTM and pushing Afghan groups into anti-Pakistan protests across Europe.
From Sikh killings in… pic.twitter.com/EoEvpoGVtZ
— Dr Irum Khan (@IKViews) November 27, 2025
سابق سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے فوکس نیوز کو بتایا کہ یہ فرد اور اس جیسے کئی دیگر لوگوں کو امریکا نہیں لایا جانا چاہیے تھا۔ ریٹکلف نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے انخلا کے بعد جن افراد کو امریکا منتقل کیا، ان کی سیکیورٹی جانچ میں سنگین کمزوریاں سامنے آ رہی ہیں۔
ایف بی آئی نے واقعے کی تحقیقات سنبھال لی ہیں اور حکام کے مطابق فائرنگ کو ’بین الاقوامی دہشت گردی‘ کے زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں زخمی ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
بدھ کی شب قوم سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کو ’سفاکانہ اور گھات لگا کر کیا گیا دہشتگردانہ اقدام‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ہمارے فوجیوں اور پوری قوم کے خلاف جرم ہے‘ اور یقین دلایا کہ ’اس حملے کے ذمہ دار کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔‘‘
واشنگٹن کی میئر موریئل باؤزر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ ’ٹارگٹڈ شوٹنگ‘ تھی اور حملہ آور نے خاص طور پر گارڈز کو ہی نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق مشتبہ شخص کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔
واقعے نے امریکا میں افغان پناہ گزینوں کی سیکیورٹی اسکریننگ اور 2021 کے انخلا کے بعد نافذ کیے گئے پروگراموں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ انٹیلی جنس حلقے اس معاملے کو امریکی داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان دہشتگرد امریکا رحمان اللہ لنکوال سی آئی اے واشنگٹن