اب ان کو جیل ملاقات کی بالکل اجازت نہیں، مجمع اکٹھاکرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی، عطا اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اب ان کو جیل ملاقات کی بالکل اجازت نہیں، مجمع اکٹھاکرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی، عطا اللہ تارڑ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ان کو اب جیل ملاقات کی بالکل اجازت نہیں اور مجمع اکٹھاکرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی ملک کیلئے خطرہ ہیں اور ملک کونقصان پہنچانا چاہتے ہیں، وہ اور اس کی پارٹی ملک کو ڈیفالٹ کروانا چاہتی تھی۔انہوں نے کہا کہ ملک کو ڈیفالٹ کروانے کیلئے آئی ایم ایف کو خطوط لکھے گئے۔عطاتارڑ کا کہنا تھاکہ 9 مئی کو فوج کی تنصیبات پرحملے کیے گئے جوکام دشمن بھی نہیں کرتا وہ پی ٹی آئی نے کیے، بانی پی ٹی آئی پاکستان کی سالمیت کیلئے خطرہ ہیں، بانی پی ٹی آئی کو اپنا سیاسی مستقبل نظرنہیں آرہا اس لیے وہ ایسا بیانیہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قیدی کی ملاقات قانون اورضابطے کے مطابق ہوتی ہے، کوئی ملاقات نہیں ہے، ملاقات بند ہے، جیل کے باہرکسی نے امن امان خراب کرنے کی کوشش کی تومقدمات ہونگے، آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا۔عطاتارڑ کا کہنا تھاکہ اب ریاست کی رٹ بحال کرنے کا وقت ہے، ان کو اب جیل ملاقات کی بالکل اجازت نہیں اور مجمع اکٹھاکرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ جیل رولز کے مطابق ملاقات میں جیل سپرنٹنڈنٹ موجود ہوتا ہے، جیل سپرنٹنڈنٹ نے رپورٹ کیا کہ ملاقات میں سیاسی گفتگو اورسیاسی ہدایات بھی دی گئیں، اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ جیل سے بیٹھ کردشمن کے ایجنڈے کوآگے بڑھایا جائے۔
عطا تارڑ سے سوا ل کیا گیا کہ کیا اب پی ٹی آئی کے ساتھ مفاہمت کا وقت ختم ہوگیا، اب کوئی گنجائش نہیں؟ جس پر عطا تارڑ نے جواب دیا کہ انہوں نے موقع گنوادیا، اب کسی انتشاری، دہشت گرد، انتہاپسند سوچ رکھنے والے سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، بانی پی ٹی آئی کے بغیر بات کرنی ہے توپارلیمنٹ میں ضروربات کریں۔انہوں کہا کہ آئیں معذرت کریں اور کہیں کہ آپ کے لیڈر نے ایسے گندے بیانات دیے ہیں، شرمندگی کا اظہارکریں پھر غورکیا جاسکتا ہے۔عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا موقع گنوادیا ہے اس کے علاوہ اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایاکہ پی ٹی آئی اراکین قومی اسمبلی ہمیں کہتے ہیں کہ انہیں بانی پی ٹی آئی نے پھنسادیا ہے، بانی پی ٹی آئی انتہاپسند ہے، اسامہ بن لادن کو شہید کہتا ہے، بانی پی ٹی آئی طالبان کی سوچ رکھتا ہے اور دہشت گردوں کو اپنا دوست مانتا ہے، اس انتہاپسند شخص کو جنگی جنون سوار ہے اس کی اپنی جماعت کے لوگ انہیں کتنا برداشت کریں گے؟، پی ٹی آئی کے لوگ ان کے بیانیے کے ساتھ نہیں کھڑے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس خیبرپختونخوا میں گورنرراج کا سنجیدہ آپشن موجود ہے، ملک کیخلاف بیانیہ بنانے والوں کیخلاف مقدمات درج ہونگے، ان کا اب کوئی مستقبل نہیں، ان کا سیاسی اسپیس اوربیانیہ محدود کیا جائے گا۔عطاتارڑ نے پی ٹی آئی پرپابندی کے سوال پرجواب دیا کہ مرے ہوئے کو کیا مارنا ان کے پاس نہ نشان ہے نہ جماعت ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراداروں اور سیاسی قیادت کا ایک دوسرے کو ذہنی مریض کہنا افسوسناک ہے، بیرسٹر گوہر کا ردعمل اداروں اور سیاسی قیادت کا ایک دوسرے کو ذہنی مریض کہنا افسوسناک ہے، بیرسٹر گوہر کا ردعمل پاکستان کے سیاحتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے ایف پی سی سی آئی اور مارکوپولو ریزورٹس اینڈ ٹورز کے درمیان مفاہمت کی یادداشت... الیکشن کمیشن کی اراکین پارلیمنٹ کو 31دسمبر تک مالی گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت قوم کو اپنی بہادر افواج اور آپکی قیادت پر ناز ہے، خواجہ آصف کی فیلڈ مارشل کو مبارکباد بانی نے کہا خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگائیں پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے، علیمہ خان خیبرپختونخوا کابینہ نے 9اور 10مئی کے مقدمات ختم کرنے کی منظوری دیدی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز