شام و لبنان کیلئے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی نے اعلان کیا ہے کہ لبنانی فوج اور اسرائیل، حزب اللہ لبنان کو عسکری طریقے سے غیر مسلح کرنیکی صلاحیت نہیں رکھتے اسلام ٹائمز۔ ترکی میں امریکی سفیر اور شام و لبنان کے لئے ٹرمپ کے خصوصی نمائندے تھامس باراک نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے کے لئے فوجی مداخلت کے علاوہ کوئی اور رستہ اختیار کیا جانا چاہیئے۔ ابوظہبی میں ملکن (Milken) انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں تھامس باراک نے لبنان میں ایک اور جنگ کے امکان پر بظاہر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی طرح حزب اللہ کو بھی ایران ہی کی حمایت حاصل ہے اور لبنانی فوج کی جانب سے 1 سال قبل ہونے والی جنگ بندی کے مطابق اس کے تخفیف اسلحہ کا امکان انتہائی مشکوک ہے!

حالیہ ہفتوں کے دوران جنگ بندی کی خلاف ورزی پر مبنی اسرائیلی حملوں میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے امریکی ایلچی نے کہا کہ حزب اللہ کو عسکری طریقے سے دبانے کی کوششوں کے ذریعے اسرائیل کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے کیونکہ اگر آپ 1 "دہشتگرد" کو نشانہ بناتے ہیں تو آپ 10 نئے "دہشتگرد" پیدا کرتے ہیں.

. یہ (اس سوال کا) جواب نہیں اور کوئی دوسرا راستہ ہونا چاہیئے..! ترکی میں امریکی سفیر نے لبنانی رہنماؤں کو اسرائیل کے ساتھ "براہ راست مذاکرات" میں شمولیت کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہم تل ابیب اور یروشلم جائیں، بیٹھیں اور بات چیت کریں.. اب اس صورتحال کو ختم کر دینے کا وقت آن پہنچا ہے!

واضح رہے کہ قابض اسرائیلی رژیم کے ساتھ "دوستانہ تعلقات" کی استواری کے مقصد سے لبنان و اسرائیل کے درمیان "براہ راست مذاکرات" کے لئے تھامس باراک کی یہ کوششیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں کہ جب بیروت حکام ایسا کرنے سے بارہا انکار کرتے رہے ہیں نیز ٹرمپ کے ایلچی کی جانب سے، حزب اللہ لبنان کے تخفیف اسلحہ پر مایوسی کا اظہار بھی عین اس وقت سامنے آیا ہے کہ جب حزب اللہ لبنان کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے چند گھنٹے قبل ہی ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ یہ مزاحمتی تحریک اپنے ہتھیاروں سے کبھی دستبردار نہ ہو گی اور خون کے آخری قطرے تک قربانی دینے کو تیار رہے گی!

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حزب اللہ لبنان

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان