بانی پی ٹی آئی وہی سب کچھ کر رہے ہیں جو بانی ایم کیو ایم کرتے تھے،طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ جو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے اس کے بارے میں حکومت ضرور سوچے گی، پی ٹی آئی نے جو اقدامات کیے ہیں وہ ملک کے خلاف ہیں۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ 20 سے 25 سال پہلے بہت سارے لوگوں نے اس کے بارے میں کہہ دیا تھا کہ یہ پلانٹڈ شخص ہے، بانی پی ٹی آئی نے ہر ادارے کو متنازع کرنے کی کوشش کی، پی ٹی آئی سیاسی جماعت کے زمرے میں نہیں آتی۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ایم کیو ایم نے بھی اپنے بانی سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا، بانی پی ٹی آئی بھی وہی سب کچھ کر رہے ہیں جو بانی ایم کیو ایم کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے پی ٹی آئی کو چھوڑ کر باقی تمام جماعتوں پر حملہ کیا ہے، کالعدم ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی تو رشتہ ہوگا، بانی پی ٹی آئی نے آج تک اسرائیل کے خلاف ایک بات تک نہیں کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی طلال چوہدری
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔