بانی سزا یافتہ، سیاسی گفتگو ہوئی، آج کے بعد عظمیٰ خان کی ملاقات بھی بند: عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کسی قیدی سے سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے دوران سیاسی معاملات پر گفتگو کرنا، ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسانے سمیت دیگر سرگرمیاں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کی ملاقات بند کر دی جائے گی، اگر جیل کے باہر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا سختی سے نوٹس لیا جائے گا۔ گزشتہ روز یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 190 ملین پائونڈ کے میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ قیدی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ایک خاتون رہنما نے بھارتی اور افغان میڈیا پر یہ تاثر دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی جان کو خطرہ ہے حالانکہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں وہ سہولیات میسر ہیں جو کسی عام قیدی کو دستیاب نہیں، بانی پی ٹی آئی روزانہ ڈیڑھ گھنٹہ ٹریڈ مل استعمال کرتے ہیں جبکہ ایک طرف عالمی میڈیا پر یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، اس کا مقصد پاکستان کی حکومت اور اداروں کو بدنام کرنا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا صبح کا ناشتہ ایک غریب آدمی کی ہفتہ بھر کی خوراک کے برابر ہے جبکہ ملکی تاریخ میں کبھی کسی قیدی کو اس نوعیت کی سہولیات نہیں ملیں۔ بانی پی ٹی آئی نے اپنے دور میں منہ پر ہاتھ پھیر کر یہ کہا تھا کہ ’’میں ان کے اے سی اترواؤں گا‘‘ بانی پی ٹی آئی اس حد تک گئے کہ اپنی سیاسی مخالفت میں یہ تک کہا کہ مخالف کی بیٹی کو اس کے سامنے گرفتار کرو تاکہ اسے تکلیف پہنچے۔ یہ تمام باتیں جس لہجے، انداز اور غرور و تکبر کے ساتھ کہی گئیں، ان پر انہیں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہئے۔ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں نو مئی کو کور کمانڈر ہائوس کے باہر موجود تھیں اور ان کی موجودگی کے شواہد بھی موجود ہیں۔ قواعد کے مطابق کسی قیدی سے سیاسی نوعیت کی گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی اور یہ رپورٹ کیا گیا کہ ملاقات کے دوران سیاسی گفتگو ہوئی۔ اس لئے آج کے بعد عظمیٰ خان کی ملاقات پر بھی پابندی ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص جیل کے اندر بیٹھ کر بھارت اور افغانستان کا بیانیہ آگے بڑھائے اور باہر آ کر فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف ٹویٹس کرے۔ بانی پی ٹی آئی کے جیل کے اندر سے پیغامات آتے ہیں کہ اداروں کے خلاف ٹویٹ کیا جائے وہ صرف مایوسی کا اظہار ہے۔ عظمیٰ خان نے درست کہا کہ بانی پی ٹی آئی غصے اور فرسٹریشن میں تھے۔ ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر جیل کے باہر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے۔ ہم نے کبھی جیل سے باہر آ کر ریاستی اداروں یا ملکی دفاع کے خلاف بات نہیں کی۔ ماضی میں جب میاں نواز شریف کی صحت خراب تھی اور ڈاکٹر عدنان تک رسائی نہیں ملتی تھی، تب بھی ہم نے اس طرح کا طرز عمل اختیار نہیں کیا۔ اگر لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا کی گئی تو ریاست اپنی رٹ یقینی بنائے گی۔ اس میں کوئی ابہام نہ رہے، انہوں نے ملک کے ڈیفالٹ کی دعائیں کیں لیکن اللہ کے کرم سے معیشت نے ٹیک آف کیا، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے، مہنگائی میں کمی آئی اور آج بھی ملکی معیشت کا موازنہ کیا جائے تووہ اس سے کہیں بہتر ہے جو پی ٹی آئی چھوڑ کر گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا مقصد صرف ’’میں، میں اور میں ہے‘‘ مکمل انا پرستی اور ذاتی مفاد کے لئے قومی مفاد کو قربان کرنا ہی ان کا طرز عمل رہا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے کا این ایف سی اجلاس میں شرکت کرنا خوش آئند امر ہے، انہیں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی شریک ہونا چاہئے اور اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم’’ایکس‘‘ پر ایک فیچر متعارف ہو گیا ہے جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ایکس اکاؤنٹ کس ملک سے آپریٹ ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے آدھے اکاؤنٹ انڈیا اور آدھے افغانستان سے چل رہے ہیں، اب اس میں کوئی ابہام نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون اور آئین موجود ہے، ایک سزا یافتہ مجرم جو کرپشن کے کیس میں قید ہے، اسے یہ اجازت نہیں کہ وہ اس طرح کا بیانیہ پھیلا سکے۔ ضمنی انتخابات میں لاہور سے تحریک انصاف کے چار چار امیدوار کھڑے تھے، ہری پور میں صوبائی مشینری کے باوجود یہ الیکشن ہار گئے۔ پنجاب حکومت کو سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے کہ معمول کی ملاقاتوں میں مشکلات کا سامنا ہے اور صورتحال پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان جیل رولز کے مطابق سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے کیونکہ رولز میں واضح لکھا ہے کہ ملاقات میں جو بھی بات ہوگی اس کو پبلک نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ اسلام آباد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اسلام آباد کی جیل آپریشنل نہیں ہوئی، اڈیالہ جیل پنجاب میں ہے اور وہاں بھی ہماری حکومت ہے، اس لیے بات ہوتی ہے۔ جیل مینوئل کے تحت ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ رول 265 کے تحت ایک ہفتے میں ایک بار ملاقات ہو سکتی ہے۔ ملاقات کرنے والوں کی تعداد 6 ہوگی۔ ہفتے میں ایک چٹھی بھی لکھ سکتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی ایک سزا یافتہ مجرم ہیں، قیدی کو بغیر نگرانی کے ملاقات کی اجازت نہیں ہوتی۔ رول557 کے تحت اگر سپرنٹنڈنٹ اگر قواعد کے مطابق ملاقات نہ سمجھیں وہ اسے ختم کر سکتے ہیں، اگر سپرنٹنڈنٹ کو امن وامان، نقص امن، انتشار کا خدشہ ہو تو وہ ملاقات روک سکتا ہے۔ آرٹیکل 243 میں کوئی ابہام ہے نہ آرمی، نیوی یا ائیر فورس کے قوانین میں بھی کوئی ابہام۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔