اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کسی قیدی سے سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے دوران سیاسی معاملات پر گفتگو کرنا، ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسانے سمیت دیگر سرگرمیاں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کی ملاقات بند کر دی جائے گی، اگر جیل کے باہر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا  سختی سے نوٹس لیا جائے گا۔  گزشتہ روز یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 190 ملین پائونڈ کے میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ قیدی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ایک خاتون رہنما نے بھارتی اور افغان میڈیا پر یہ تاثر دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی جان کو خطرہ ہے حالانکہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں وہ سہولیات میسر ہیں جو کسی عام قیدی کو دستیاب نہیں،  بانی پی ٹی آئی روزانہ ڈیڑھ گھنٹہ ٹریڈ مل استعمال کرتے ہیں جبکہ ایک طرف عالمی میڈیا پر یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، اس کا مقصد پاکستان کی حکومت اور اداروں کو بدنام کرنا ہے۔  بانی پی ٹی آئی کا صبح کا ناشتہ ایک غریب آدمی کی ہفتہ بھر کی خوراک کے برابر ہے جبکہ ملکی تاریخ میں کبھی کسی قیدی کو اس نوعیت کی سہولیات نہیں ملیں۔ بانی پی ٹی آئی نے اپنے دور میں منہ پر ہاتھ پھیر کر یہ کہا تھا کہ ’’میں ان کے اے سی اترواؤں گا‘‘ بانی پی ٹی آئی اس حد تک گئے کہ اپنی سیاسی مخالفت میں یہ تک کہا کہ مخالف کی بیٹی کو اس کے سامنے گرفتار کرو تاکہ اسے تکلیف پہنچے۔ یہ تمام باتیں جس لہجے، انداز اور غرور و تکبر کے ساتھ کہی گئیں، ان پر انہیں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہئے۔ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں نو مئی کو کور کمانڈر ہائوس کے باہر موجود تھیں اور ان کی موجودگی کے شواہد بھی موجود ہیں۔ قواعد کے مطابق کسی قیدی سے سیاسی نوعیت کی گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی اور یہ رپورٹ کیا گیا کہ ملاقات کے دوران سیاسی گفتگو ہوئی۔ اس لئے آج کے بعد عظمیٰ خان کی ملاقات پر بھی پابندی ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص جیل کے اندر بیٹھ کر بھارت اور افغانستان کا بیانیہ آگے بڑھائے اور باہر آ کر فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف ٹویٹس کرے۔ بانی پی ٹی آئی کے جیل کے اندر سے پیغامات آتے ہیں کہ اداروں کے خلاف ٹویٹ کیا جائے وہ صرف مایوسی کا اظہار ہے۔ عظمیٰ خان نے درست کہا کہ بانی پی ٹی آئی غصے اور فرسٹریشن میں تھے۔ ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر جیل کے باہر امن و امان کی صورتحال  خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے۔ ہم نے کبھی جیل سے باہر آ کر ریاستی اداروں یا ملکی دفاع کے خلاف بات نہیں کی۔ ماضی میں جب میاں نواز شریف کی صحت خراب تھی اور ڈاکٹر عدنان تک رسائی نہیں ملتی تھی، تب بھی ہم نے اس طرح کا طرز عمل اختیار نہیں کیا۔ اگر لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا کی گئی تو ریاست اپنی رٹ یقینی بنائے گی۔ اس میں کوئی ابہام نہ رہے، انہوں نے ملک کے ڈیفالٹ کی دعائیں کیں لیکن اللہ کے کرم سے معیشت نے ٹیک آف کیا، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے، مہنگائی میں کمی آئی اور آج بھی ملکی معیشت کا موازنہ کیا جائے تووہ اس سے کہیں بہتر ہے جو پی ٹی آئی چھوڑ کر گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا مقصد صرف ’’میں، میں اور میں ہے‘‘ مکمل انا پرستی اور ذاتی مفاد کے لئے قومی مفاد کو قربان کرنا ہی ان کا طرز عمل رہا ہے۔  وزیراعلیٰ خیبر پی کے کا این ایف سی اجلاس میں شرکت کرنا خوش آئند امر ہے، انہیں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی شریک ہونا چاہئے اور اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم’’ایکس‘‘ پر ایک فیچر متعارف ہو گیا ہے جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ایکس اکاؤنٹ کس ملک سے آپریٹ ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے آدھے اکاؤنٹ انڈیا اور آدھے افغانستان سے چل رہے ہیں، اب اس میں کوئی ابہام نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون اور آئین موجود ہے، ایک سزا یافتہ مجرم جو کرپشن کے کیس میں قید ہے، اسے یہ اجازت نہیں کہ وہ اس طرح کا بیانیہ پھیلا سکے۔ ضمنی انتخابات میں لاہور سے تحریک انصاف کے چار چار امیدوار کھڑے تھے، ہری پور میں صوبائی مشینری کے باوجود یہ الیکشن ہار گئے۔ پنجاب حکومت کو سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے کہ معمول کی ملاقاتوں میں مشکلات کا سامنا ہے اور صورتحال پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ 

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان جیل رولز کے مطابق سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے کیونکہ رولز میں واضح لکھا ہے کہ ملاقات میں جو بھی بات ہوگی اس کو پبلک نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ  اسلام آباد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اسلام آباد کی جیل آپریشنل نہیں ہوئی، اڈیالہ جیل پنجاب میں ہے اور وہاں بھی ہماری حکومت ہے، اس لیے بات ہوتی ہے۔ جیل مینوئل کے تحت ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ رول 265 کے تحت ایک ہفتے میں ایک بار ملاقات ہو سکتی ہے۔ ملاقات کرنے والوں کی تعداد 6 ہوگی۔ ہفتے میں ایک چٹھی بھی لکھ سکتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی ایک سزا یافتہ مجرم ہیں، قیدی کو بغیر نگرانی کے ملاقات کی اجازت نہیں ہوتی۔ رول557 کے تحت اگر سپرنٹنڈنٹ اگر قواعد کے مطابق ملاقات نہ سمجھیں وہ اسے ختم کر سکتے ہیں، اگر سپرنٹنڈنٹ کو امن وامان، نقص امن، انتشار کا خدشہ ہو تو وہ ملاقات روک سکتا ہے۔ آرٹیکل 243 میں کوئی ابہام ہے نہ آرمی، نیوی یا ائیر فورس کے قوانین میں بھی کوئی ابہام۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن