کراچی کی 26 شاہراؤں پر رکشوں کا داخلہ بند، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
کراچی کی ٹریفک صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے انتظامیہ نے رکشوں کے داخلے پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ٹریفک اصلاحات کا اعلان، لاہور میں چنگ چی رکشوں پر پابندی
کمشنر کراچی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شہر کی 20 اہم شاہراہوں پر 2 اور 4 سیٹر رکشوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ پابندی کا دائرہ بڑھا کر مجموعی طور پر 26 مرکزی شاہراہوں تک کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پر یہ فیصلہ ڈی آئی جی ٹریفک کی سفارش کیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنایا جا سکے اور بڑی شاہراہوں پر رش میں کمی لائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ: 4 سیٹر رکشوں پر پابندی
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ شارع فیصل سے آئی آئی چندریگر روڈ تک رکشوں کی مکمل ممانعت فوری طور پر نافذ العمل ہوگئی ہے۔
کمشنر کراچی نے سیکشن 144 کے تحت یہ پابندی عائد کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ شہریوں کو ٹریفک جام کی اذیت سے نجات دلائی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پابندی رکشے شاہراہیں کراچی کمشنر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پابندی شاہراہیں کراچی
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔