صادق آباد احتجاج؛ علیمہ خان کیخلاف کیس کی کارروائی آگے نہ بڑھ سکی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
راولپنڈی:
راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں علیمہ خان کے خلاف صادق آباد احتجاج کیس کی سماعت وکلاء کی ہڑتال کے باعث آگے نہ بڑھ سکی اور عدالت نے کارروائی 8 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
علیمہ خان کے وکیل فیصل محمد ملک نے حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ آج مکمل ہڑتال ہے، لہٰذا عدالت میں پیش ہونا ممکن نہیں۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے آج کی حاضری سے استثنا دیا۔
دوران سماعت پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ 15 اکتوبر کو فردِ جرم عائد ہو چکی ہے مگر گواہوں کے بیانات تاحال ریکارڈ نہیں ہو سکے۔
جج امجد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ گواہان ہر تاریخ پر حاضر ہوتے ہیں، علیمہ خان کو 80 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا، جرمانے کی رقم ادا کی جائے تاکہ گواہان کو ادا کیے جا سکیں۔
علیمہ خان نے موقف دیا کہ اکاؤنٹس بند ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ چیک دے دیں۔
فیصل ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم عدالتی حکم کے مطابق جرمانہ ادا کریں گے۔ علیمہ خان نے یقین دہانی کروائی کہ آئندہ تاریخ سے قبل چیک عدالت میں جمع کروا دیا جائے گا۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ وکلائے صفائی کو ٹرائل پر کوئی اعتراض تو قانون واضح ہے، وکلائے صفائی مقدمہ کسی بھی دوسری عدالت ٹرانسفر کروا سکتے ہیں۔ وکلائے صفائی اس مقدمے کو میڈیا پر مسئلہ نا بنائیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو کتب دینے کی اجازت دی جائے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ یہ کتب عدالت جمع کروا دیں جیل بھجوا دی جائیں گی۔
آئندہ سماعت پر گواہان کے بیان ریکارڈ ہوں گے، گواہان کی طلبی کر لی گئی۔ وکلاء کی ہڑتال کے باعث جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت بھی 17 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علیمہ خان نے کہا کہ عدالت نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔