کرناٹک (ویب ڈیسک) بھارت کی جنوب مغربی ریاست کرناٹک کے گورنر تھاورچند گہلوت کے خاندان میں بہو پر جہیز کیلئے تشدد اور قتل کی کوشش کا الزام سامنے آیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما و کرناٹک کے گورنر تھاورچند گہلوت کے پوتے دیویندر گہلوت کی اہلیہ دیویا گہلوت نے اپنے شوہر اور سسرالیوں پر جہیز کے مطالبے، گھریلو تشدد، قتل کی کوشش اور اپنی کم سن بیٹی کے اغواء کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

دیویا نے پولیس کو ایک تحریری درخواست دی جس میں انہوں نے ملزمان کے خلاف فوری کارروائی اور اپنی چار سالہ بیٹی واپس دلوانے کی اپیل کی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ اُن کے شوہر دیویندر گہلوت، سسر جیتندر گہلوت جو سابق ایم ایل اے بھی ہیں و دیگر اہلخانہ کافی عرصے سے 50 لاکھ روپے جہیز کے مطالبے پر مجھے ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔

دیویا کا الزام ہے کہ شادی سے قبل اُن کے شوہر کی شراب نوشی، منشیات کے استعمال اور متعدد خواتین کے ساتھ تعلقات جیسے اہم حقائق جان بوجھ کر چھپائے گئے۔

بھارت: جہیز پر سسرالیوں کے ہراساں کرنے پر نئی نویلی دلہن نے خودکشی کرلی

انہوں نے کہا کہ سسرالیوں کی جانب سے 2021 میں حمل کے دوران مجھے شدید اذیتیں دی گئیں، جن میں کھانا نہ دینا، مار پیٹ کرنا اور ذہنی اذیت دینا عام بات بن چکی تھی، بیٹی کی پیدائش کے بعد بھی یہ سلوک جاری رہا۔

اپنی شکایت میں دیویا نے بتایا کہ 26 جنوری کی رات شوہر نشے میں گھر آیا اور انہیں بری طرح مارا۔ اس نے دھمکی دی کہ اگر آج پیسے نہ لائی تو تمہیں قتل کر دوں گا۔

دیویا کا الزام ہے کہ شوہر نے انہیں چھت سے نیچے دھکا دیا، جس سے ان کی ریڑھ کی ہڈی، کندھے اور کمر میں شدید چوٹیں آئیں۔ رات بھر انہیں طبی امداد نہ دی گئی۔ اگلی صبح نجی اسپتال لے جایا گیا، جہاں حالت تشویشناک قرار دی گئی اور انہیں اندور کے بمبئی اسپتال منتقل کیا گیا۔

دیویا نے الزام لگایا کہ سسرالیوں نے ان کی بیٹی کو زبردستی اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور ملاقات تک کی اجازت نہیں دیتے۔ نومبر میں جب وہ اسکول میں بچی کو دیکھنے گئیں تو شوہر نے روک کر کہا کہ ’جب تک تم اپنے والدین سے پیسے نہیں لاتی، بچی سے نہ مل سکو گی۔

انہوں نے اپنی درخواست میں فریاد کی کہ ایک ماں ہی اپنی بچی کی صحیح پرورش کر سکتی ہے۔ میری بچی مجھے واپس دلائی جائے۔

خاندان کی بہو کی جانب سے عائد کیے گئے ان سنگین الزامات کے جواب میں جیتندر گہلوت نے مختصر بیان میں کہا کہ کوئی بھی الزام لگا سکتا ہے، میں تمام حقائق میڈیا کے سامنے پیش کروں گا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دیویا اور دیویندر کی شادی 29 اپریل 2018 کو مدھیہ پردیش میں ہوئی تھی، جس میں اُس وقت کے مرکزی وزیر تھاورچند گہلوت اور سابق لوک سبھا اسپیکر سومترہ مہاجن سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی تھی۔

یہ معاملہ سیاسی خاندان سے جڑے ہونے کی وجہ سے وسیع توجہ حاصل کر رہا ہے اور پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

 وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم