میرپورخاص، ڈکیتی کرنے والے بین الصوبائی گروہ کے کارندے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص (نمائندہ جسارت) پولیس کی کامیاب کارروائی، چند روز قبل سنار سے اسلحہ کے زور پر ڈکیتی کرنے والے بین الاضلاعی گروہ کے ملزمان گرفتار، چھینی گئی رقم برآمد، سہولت کار نے ٹارگٹ دیا۔ تفصیلات کے مطابق چند روز قبل ٹاؤن تھانے کی حدود کاہو بازار میں سہیل نامی سنار کے ساتھ ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا۔ مذکورہ سنار جب اپنی جیولرز شاپ بند کر کے گھر پہنچا تو 125 موٹر سائیکل پر سوار تین نامعلوم ملزمان نے سہیل میمن اور اس کے ملازم سے اسلحہ کے زور پر کیش رقم تقریباً 11 لاکھ روپے، جبکہ پرس جس میں ایک لاکھ روپے نقد، اے ٹی ایم کارڈز، شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات موجود تھیں، چھین کر فرار ہو گئے تھے واقعہ کے فوری بعد ٹاؤن تھانے پر مقدمہ مذکورہ تاجر کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا ۔ایس ایس پی میرپورخاص ڈاکٹر سمیر نور چنا نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جس میں انسپکٹر غلام حسین سدھایو، انسپکٹر عنایت علی زرداری، انسپکٹر زیشان لاشاری اور دیگر افسران شامل تھے۔ متعین ٹیم نے ایس ایس پی میرپورخاص کی ہدایات کی روشنی میں سی سی ٹی وی فوٹیجز اور جدید تکنیکی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے جرم میں ملوث 2 انتہائی مطلوب ملزمان صداقت علی، سکنہ ضلع حیدرآباد ، شعیب عرف شیدی، سکنہ ضلع حیدرآباد دونوں گرفتار ملزمان سے چھینی گئی رقم، ATM کارڈ، شناختی کارڈ، پرس اور دیگر اشیا برآمد کی گئی ہیں گرفتار ملزم صداقت سے جرم میں استعمال کیا گیا پسٹل برآمد کیا گیا جس کا مقدمہ اندراج کیا گیا ہے دونوں گرفتار ملزمان عادی مجرم ہیں، گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ واردات میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں، میرپورخاص پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز اور مؤثر کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا گیا
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر