شہر قائد میں رینجرز اہلکار کو ڈکیتی مزاحمت پر قتل کرنے والا ملزم زخمی حالت میں گرفتار ہوگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق رینجرز اور انویسٹی گیشن پولیس نے خفیہ اطلاع پر مشترکہ کارروائی کے دوران سہراب گوٹھ میں چھاپہ مار کر رینجرز کے جوان کو ڈکیتی مزاحمت پر قتل کرنے میں ملوث ملزم کو مقابلے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔

ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت عیسیٰ عرف بسم اللہ کے نام سے کی گئی جس نے سہراب گوٹھ کے علاقے میں رینجرز اہلکار ظہیر الدین عرف ڈاکٹر کو قتل کیا تھا۔

ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم اپنے ساتھی سعید عرف طور خان کے ہمراہ سہراب گوٹھ ، جمالی گوٹھ اور سپرہائی سے سمیت ملحقہ علاقوں میں لوٹ مار کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا جبکہ ملزم کے قبضے سے واردات میں استعمال کیے جانے والا اسلحہ و گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

رینجرز ترجمان کے مطابق رواں سال 30 مارچ کو چھٹی پر گھر آئے ہوئے اہلکار ظہیر الدین کو سہراب گوٹھ کے علاقہ فتح محمد گبول گوٹھ میں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان نے دوران ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کر کے شہید کیا تھا اور موقع سے فرار ہوگئے تھے۔

واردات کا مقدمہ سہراب گوٹھ تھانے میں مقتول کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق واردات کے فوری بعد ایس ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں رینجرز اور پولیس کی مشتر کہ ٹیم تشکیل دی جس نے انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر واردات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے  سہراب گوٹھ کے علاقے میں چھاپہ مارا تو ملزمان نے رینجرز اور پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی تاہم جوابی فائرنگ  کے نتیجے میں ایک ملزم عیسیٰ عرف بسم الله کو زخمی حالت میں گرفتار ہوا جبکہ ملزم کا دوسرا ساتھی سعید عرف طور موقع سے فرار ہو گیا جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

رینجرز ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم نے دوران تفتیش اپنے مفرور ساتھی کے ہمراہ ڈکیتی مزاحمت پر رینجرز کے جوان ظہیر الدین کو فائرنگ کر کے شہید کرنے کا اعتراف کیا ہے جبکہ گرفتار ملزم  کو اسلحہ و گولیوں سمیت مزید قانونی کارروائی کیلئے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: زخمی حالت میں گرفتار ترجمان کے مطابق ڈکیتی مزاحمت پر گرفتار ملزم سہراب گوٹھ

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب