اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ڈی ایٹ میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بہترین وقت ہے کہ ہم تعاون، ہم آہنگی اور مشترکہ اقدامات کو مضبوط کریں۔ عالمی میڈیا منظرنامہ بے مثال اور تیز رفتار تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا آج دنیا کا سب سے تیزی سے پھیلتا ہوا ذریعہ ابلاغ بن گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ڈی ایٹ میڈیا فورم ضابطہ اخلاق اور کوڈ آف کنڈکٹ کی تیاری کے لیے بہترین پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔ نئی نسل خصوصاً Gen Z کو میڈیا لٹریسی اور درست معلومات کی تعلیم دینا وقت کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑنے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 117 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ ملک بھر میں 79 ملین سے زائد افراد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے شفاف ابلاغ، ڈیجیٹل ذمہ داری اور میڈیا اداروں کے مابین بہتر روابط کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا آؤٹ لیٹس پر فیکٹ چیکنگ کا باقاعدہ نظام موجود ہے تاکہ درست معلومات فراہم کی جائیں اور جعلی خبروں کی نشاندہی کی جا سکے۔ مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن حالیہ دور کے سب سے بڑے چیلنج ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم میں جب عالمی رہنماؤں سے سوال کیا گیا کہ ہمارے دور کا سب سے بڑا چیلنج کیا ہے تو انہوں نے ایٹمی جنگ یا موسمیاتی تبدیلی کا ذکر نہیں کیا بلکہ مس انفارمیشن کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔ عطاء اللہ تارڑنے کہا کہ مشترکہ فیکٹ چیک پلیٹ فارم قائم کرنے وقت کی ضرورت ہے۔ آن لائن انتہاپسندی اور نفرت انگیز مواد کے خلاف مشترکہ شراکت داری ناگزیر ہے۔ پاکستان جنوری 2026ء میں سیکرٹری جنرل شپ کی ذمہ داری سنبھالے گا تو موجودہ سیکرٹری جنرل کے تجربات اور مثالی قیادت سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ ڈی ایٹ ممالک کو باہمی اتفاق رائے سے ایک مشترکہ ضابطہ اخلاق مرتب کرنا چاہیے۔ پاکستان امن، استحکام اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی مشترکہ صلاحیت بڑھانے کے لیے ہر سطح پر تعاون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر الہام علیوف کی قیادت میں ڈی ایٹ کی سرگرمیوں کو تقویت ملی، عالمی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ پروپیگنڈا اور غلط معلومات دنیا بھر میں گمراہ کن بیانیہ کو جنم دے رہی ہیں۔ ڈی ایٹ ممالک کی مثبت کہانیاں دنیا تک پہنچانا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بحرانوں کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے لئے صحافیوں کی تربیت ناگزیر ہے۔ آذربائیجان میں میڈیا ایکسی لینس سینٹر کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ رکن ممالک کی شراکت سے میڈیا تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: نے کہا کہ میڈیا ا ڈی ایٹ

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ