اسلام آباد:

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) نے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے غیر قانونی سرمایہ کاری اور تجارتی پلیٹ فارمز کو دھوکہ دہی سے فروغ دینے والے غیر مجاز افراد اور گروپس کی نشان دہی کردی ہے اورعوام کو خبردار کیا ہے کہ لائسنس یافتہ بروکریج ہاؤسز کے ناموں اور مشہور شخصیات، فن فلوئنسرز اور بروکریج ایگزیکٹوز کے ناموں کا غلط استعمال کرنے والی غیر قانونی ٹریڈنگ ایپلی کیشن کے ذریعے سرمایہ کاری سے اجتناب کریں۔

ایس ای سی پی کے مطابق یہ ادارے لائسنس یافتہ سیکیورٹیز بروکرز کے ناموں کے ساتھ ساتھ مشہور شخصیات، فن فلوئنسرز اور بروکریج ایگزیکٹوز کی تصاویر کا غلط استعمال کر رہے ہیں ایس ای سی پی نے  TSLWEA/TSL WEALTHکے عنوان سے ایک موبائل، ویب ایپلیکیشن کی نشان دہی کی ہے جو لائسنس یافتہ سیکیورٹیز بروکر، ٹاپ سیکیورٹیز لمیٹڈ کی نقالی کر رہی ہے۔

مزید برآںA103-Topline Stock Strategies Hub  نام کا ایک واٹس ایپ گروپ بھیTSLWEA/TSL WEALTH ایپلیکیشن اور ای پر مبنی تجارتی نظام کو ٹاپ سیکیورٹیز لمیٹڈ کے ساتھ جوڑ رہا ہے لہٰذا عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہTSLWEA/ TSL WEALTH  نہ تو ایس ای سی پی سے لائسنس یافتہ ہے اور نہ ہی مجاز ہے کہ وہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج لمیٹڈ (پی ایس ایکس) یا کسی دیگر ریگولیٹڈ مارکیٹ کے لیے کوئی سرمایہ کاری یا ٹریڈنگ پلیٹ فارم چلائے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ ایس ای سی پی نے یہ بھی دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا پر اے آئی سے تیار کیے گئے ایسے اشتہارات چل رہے ہیں جن میں مشہور شخصیات، فِن فلوئنسرز اور معروف بروکریج ہاؤسز کے افسران کی تصاویر استعمال کی گئی ہیں، جو گمراہ کن اشتہارات عوام کو لسٹیڈ کمپنیوں کے شیئرز میں سرمایہ کاری کے نام پر مختلف واٹس ایپ گروپس میں شامل ہونے پر اُکساتے ہیں۔

 ایس ای سی پی خبردار کرتی ہے کہ ایسے تمام گروپس غیر قانونی ہیں اور ان میں شامل ہونے والے افراد کو مالی نقصان کا شدید خطرہ ہے، محفوظ اور جائز ٹریڈنگ کے لیے ایس ای سی پی عوام کو مشورہ دیتی ہے کہ صرف ایس ای سی پی سے لائسنس یافتہ سیکیورٹیز اور فیوچرز بروکرز ہی سے رابطہ کریں اور لائسنس یافتہ بروکرز کی فہرست پی ایس ایکس اور پی ایم ای ایکس کی سرکاری ویب سائٹس پر دستیاب ہے۔

ایس ای سی پی سرمایہ کاروں پر زور دیتا ہے کہ وہ محتاط رہیں جعلی پلیٹ فارمز سے بچیں اور کسی بھی سرمایہ کاری سروس کو رقم یا ذاتی معلومات دینے سے پہلے اس کی اصل حیثیت ضرور چیک کریں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایس ای سی پی نے شناخت شدہ غیر مجاز پلیٹ فارمز کی رپورٹ گوگل، پی ٹی اے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کر دی ہے، ایس ای سی پی عوام کو سختی سے خبردار کر تا ہے کہ وہTSLWEA/ TSL WEALTH  ایپلیکیشن یا کسی بھی ایسے فرد یا گروپ کے ذریعے کوئی رقم جمع نہ کروائیں اور نہ ہی سرمایہ کاری کریں جو غیر قانونی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز کو کسی بھی شکل میں فروغ دے رہے ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لائسنس یافتہ ایس ای سی پی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام کو

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد