وفاقی شرعی عدالت نے وفاقی آئینی عدالت کو اپنی عمارت فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی شرعی عدالت نے نئی قائم ہونے والی وفاقی آئینی عدالت کو اپنی عمارت فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد وجود میں آنے والی آئینی عدالت کے ججوں کو عارضی طور پر وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں بٹھانے پر غور کیا جارہا تھا، مگر شرعی عدالت نے یہ انتظام ماننے سے منع کر دیا۔
اس انکار کے بعد صورتحال یہ بنی کہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان فی الحال اسلام آباد ہائیکورٹ کے روم نمبر 1 میں بیٹھیں گے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو کورٹ روم نمبر 2 میں منتقل ہونا پڑے گا۔
کمشنر اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کی زیرصدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس، اہم فیصلے
یاد رہے کہ گزشتہ روز صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر جسٹس امین الدین خان کی بطور پہلے چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت تقرری کی منظوری دی تھی، جس کے بعد آج انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ آئینی عدالت کے مزید تین جج صاحبان نے بھی اپنے عہدوں کا حلف لیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت شرعی عدالت
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔