Islam Times:
2026-07-24@09:03:51 GMT

بین الاقوامی صہیونی اتحاد میں دراڑ

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

بین الاقوامی صہیونی اتحاد میں دراڑ

اسلام ٹائمز: اہم شخصیت گوستی یهوشوا برونر نے بھی لیکوڈ کی کوششوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نہیں چاہتے کہ یہ ادارہ نوکریوں کی تقسیم گاہ بن جائے، بلکہ یہ شفافیت اور صلاحیت کا مرکز ہونا چاہیے۔" لاپید کی کھلی تنقید اور سیاسی مؤقف نے ثابت کیا کہ اسرائیل کے داخلی تنازعات اب صہیونیوں کے تاریخی بین الاقوامی اداروں تک بھی پہنچ چکے ہیں، اور طاقت کی اس کشمکش نے عالمی صہیونی کانگریس، جو کبھی اتحاد کی علامت تھی اس کو اندرونی ٹکڑاؤ کے میدان میں بدل دیا ہے۔ خصوصی رپورٹ: 

اس سال عالمی صہیونی کانگریس، جو دنیا بھر کے صہیونی یہودیوں کا سب سے اہم ماورائے ریاست ادارہ ہے، لیکوڈ پارٹی کی جانب سے اس ادارے پر قبضہ جمانے کی کوششوں کے باعث شدید سیاسی تنازعات کا شکار ہوا، اور اجلاس کسی کلیدی عہدے کے انتخاب کے بغیر اختتام پذیر ہوا۔ بین الاقوامی خبرگزاری تسنیم کے مطابق عالمی صہیونی کانگریس کا اجلاس اس بار غیر معمولی سیاسی ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا۔

چونتیسویں اجلاس کا ماحول اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاهو اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشمکش، نیز یائیر لاپید کے شدید بیانات کے اثرات سے منفی متاثر ہوا۔ عبرانی میڈیا نے نشاندہی کی کہ پچھلے چند برسوں میں اسرائیلی سیاستدانوں کے داخلی اختلافات عالمی صہیونی کانگریس اور اس کے ذیلی اداروں، جیسے یہودی ایجنسی، یہودی نیشنل فنڈ، اور دیگر تنظیمیوں کی سمت اور قیادت پر نمایاں اثر ڈال رہے ہیں، حالانکہ یہ کانگریس صہیونی ریاست کا سب سے بڑا بین الاقوامی پشت پناہ ادارہ ہے۔ 

اختلافات کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟:
کنست کی جماعتوں نے اجلاس سے قبل 28 اکتوبر کو ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت، یہودی نیشنل فنڈ (JNF) کی سربراہی یائیر لاپید کی جماعت یش‌ عتید کو ملنی تھی، اور عالمی صہیونی تنظیم کے سیکریٹری جنرل کا عہدہ لیکوڈ کے پاس جانا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق ہر جماعت کو اپنے امیدوار مختلف عہدوں پر تعینات کرنے کا حق حاصل تھا۔ لیکوڈ کے پاس عالمی صہیونی تنظیم کے میڈیا اور ڈائسپورا ڈویژن کے سربراہ کی نامزدگی کا اختیار بھی تھا، جو وزیر کے برابر حیثیت رکھتا ہے۔

لیکن ووٹنگ کے روز لیکوڈ نے اس معاہدے سے انحراف کیا، اور جب لیکوڈ نے نتن یاہو کے بیٹے یائیر نتن یاہو کا نام ایک اہم عہدے کے لیے پیش کیا تو ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ یائیر لاپید نے اس پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے سابق معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا، نتن یاہو پر سیاسی رشتہ دار نوازی اور اپنے خاندان و حامیوں میں عہدے تقسیم کرنے کا الزام لگایا۔ تنازع کے نتیجے میں کنست رکن مایر کوہن کی JNF کی سربراہی پر تعیناتی مؤخر ہوگئی، اور خاخام دورون پرتز کی عالمی صہیونی تنظیم کے نئے صدر کے طور پر نامزدگی بھی روک دی گئی۔

یہودی مالیاتی فنڈز کی اہمیت اور سیاسی کوششیں:
دو بڑے مالیاتی ادارے کیرن کاییمت (JNF) اور کیرن ہیسود، عالمی صہیونی کانگریس کے ماتحت ہیں، اور صہیونی ریاست کو عالمی یہودی امداد دلوانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جنگ کے جاری خرچوں نے اسرائیل کی معیشت پر شدید دباؤ بڑھایا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ان فنڈز کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ نتن یاہو کی جانب سے ان اداروں پر سیاسی کنٹرول کی کوشش نے شدید مخالفت کو جنم دیا۔

لاپید نے ایک سخت بیان میں کہا "ہم ان اداروں کو اصلاحات کے ذریعے پاک کرنا چاہتے تھے، مگر تمام تفصیلات واضح ہونے کے بعد یہ نتیجہ نکلا کہ اصلاح ممکن نہیں، اسے بند کر دینا چاہیے۔" انہوں نے مزید کہا کہ لیکوڈ عالمی صہیونی تنظیم کے اداروں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، اپنے خاندان (خصوصاً یائیر نتن یاہو) اور باوفا کاروباری طبقات کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہتا ہے، اور چھ نئی غیر ضروری ڈویژنز قائم کرکے سینکڑوں عہدے اپنے حامیوں میں بانٹنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

کانگریس کے سینئر اراکین کی ناراضگی:
کانگریس کی ایک اہم شخصیت گوستی یهوشوا برونر نے بھی لیکوڈ کی کوششوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نہیں چاہتے کہ یہ ادارہ نوکریوں کی تقسیم گاہ بن جائے، بلکہ یہ شفافیت اور صلاحیت کا مرکز ہونا چاہیے۔" لاپید کی کھلی تنقید اور سیاسی مؤقف نے ثابت کیا کہ اسرائیل کے داخلی تنازعات اب صہیونیوں کے تاریخی بین الاقوامی اداروں تک بھی پہنچ چکے ہیں، اور طاقت کی اس کشمکش نے عالمی صہیونی کانگریس، جو کبھی اتحاد کی علامت تھی اس کو اندرونی ٹکڑاؤ کے میدان میں بدل دیا ہے۔

بین الاقوامی صہیونی اتحاد میں دراڑیں:
اس تنازع کی اہمیت یہ ہے کہ عالمی صہیونی کانگریس 1948 سے اسرائیلی ریاست کی مالی و سیاسی پشت پناہی کا مرکز رہا ہے، مگر اب داخلی اختلافات نے اسے بھی متزلزل کر دیا ہے۔ گزشتہ برسوں میں بین الاقوامی صہیونی تنظیموں جیسے AIPAC کے اندر بھی اختلافات بڑھے ہیں، اور کئی اہم یہودی گروہ تل ابیب کی حکومتی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔ اسرائیل کی دائیں بازو، انتہائی مذہبی اور آمرانہ پالیسیوں نے لبرل یہودیوں کو بدظن کیا ہے، جبکہ جنگی جرائم نے عالمی سطح پر ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، خصوصاً امریکہ میں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عالمی صہیونی تنظیم کے عالمی صہیونی کانگریس بین الاقوامی نتن یاہو

پڑھیں:

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینئر عہدیدار ایریکا گویرا روزاس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی گرفتاری اور ان پر بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہوئے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینئر ڈائریکٹر برائے تحقیق، وکالت، پالیسی اور مہمات، ایریکا گویرا روزاس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی گرفتاری اور ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Instead of waging a campaign against the @IntlCrimCourt and continuing to arm a government committing genocide, US authorities should uphold human rights and respect the rule of law. @NYCMayor Mamdani is right: @netanyahu should be arrested, and brought before the International… pic.twitter.com/mai4rtENAh

— Erika Guevara Rosas (@ErikaGuevaraR) July 23, 2026

ایریکا گویرا روزاس نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کے حالیہ مؤقف کی حمایت کی، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر بنیامین نیتن یاہو نیویارک کا دورہ کریں تو انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو جنگی مجرم، اس کی جگہ جیل ہے، ظہران ممدانی ستمبر میں اسرائیلی وزیراعظم  کو گرفتار کرنے پر بضد

روزاس نے اپنے بیان میں کہا کہ  امریکی حکام کو انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے 2024 میں بنیامین نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ عدالت کا مؤقف ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کی باقاعدہ تحقیقات اور قانونی کارروائی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو کو گرفتار کریں گے، ہنگری کے نومنتخب وزیراعظم کا بڑا اعلان

اسرائیل آئی سی سی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، جبکہ غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران کے تناظر میں اسرائیلی قیادت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانونی اور سفارتی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایمنسٹی انٹرنیشنل جنگی جرائم نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ