امریکی کانگریس کی رپورٹ نے پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح پر مہر تصدیق ثبت کردی، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے باغ میں دانش اسکول کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ خوشی کا ہے اور دانش سکول کا سفر پنجاب سے شروع ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ آج پورے پاکستان میں یہ دانش گاہیں تعمیروترقی کے ذریعے پھیل رہی ہیں اور بھمبر میں اس سکول کا 35 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے چترال میں دانش اسکول کا سنگ بنیاد رکھ دیا
وزیراعظم نے کہا کہ امریکی کانگریس کی رپورٹ نے پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ پاکستان نے 4 دن کی جنگ میں بھارت کو زناٹے دار تپھڑ رسید کیے، پاک فوج نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی جانب سے بھارت کے 7 جہاز گرانے کا بارہا ذکر کیا۔
افواجِ پاکستان نے بھارت کو زناٹے دار تھپڑ رسید کیا تھا، اور آج امریکی کانگریس نے اس پر مہر لگا دی۔ شاہینوں کی کارکردگی نے بھارت کو گھٹنوں کے بل گرنے پر مجبور کیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف pic.
— WE News (@WENewsPk) November 20, 2025
وزیراعظم نے افواج پاکستان کی دلیری، فیلڈ مارشل کی شاندار قیادت اور اللہ کے فضل و کرم کو فتح کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کا وقار دنیا میں بلند ہوا۔
معرکہ حق کے بعد پاکستان کا وقار بلند ہوا، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھورتقریب سے خطاب میں وزیرِ اعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور نے وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ پورے پاکستان میں دانش سکول کے سلسلے کو بڑھانے میں ان کا کردار قابل ستائش ہے۔
مزید پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈز سے بننے والی دانش یونیورسٹی دنیا کی بہترین جامعات سے کم نہ ہوگی، وزیراعظم
انہوں نے بتایا کہ دانش سکول علم اور دوستی کا واضح ثبوت ہیں اور فنڈز کی فراہمی ہمیشہ خندہ پیشانی سے کی گئی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے باغ، آزاد کشمیر میں دانش اسکول کا سنگِ بنیاد رکھ دیا۔ ان شاء اللہ 23 مارچ 2026 کو اس کا افتتاح کریں گے۔ وادیِ نیلم میں دانش اسکول کا سنگِ بنیاد بھی جلد رکھ دیا جائے گا۔ اور نو منتخب وزیرِ اعظم آزاد کشمیر کی فرمائش پر میں ان کو بطور تحفہ کہوٹہ دانش اسکول… pic.twitter.com/HOGdHPVEbL
— WE News (@WENewsPk) November 20, 2025
فیصل راٹھور نے مزید کہا کہ نئی حکومت کے قیام سے ریاست میں اعتماد پیدا ہوا اور معرکہ حق کے بعد پاکستان کا وقار بلند ہوا۔
انہوں نے مسلح افواج کی کامیابی پر فخر کا اظہار کیا اور مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام پر ظلم و بربریت کی انتہا ہونے کا ذکر بھی کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی کانگریس باغ پاک بھارت جنگ دانش اسکول وزیرِ اعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور وزیراعظم شہباز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی کانگریس پاک بھارت جنگ دانش اسکول وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اعظم شہباز شریف امریکی کانگریس میں دانش اسکول فیصل راٹھور پاکستان کی بھارت کو سکول کا کہا کہ
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔