الفلاح یونیورسٹی کے چیئرمین کے گھر پر بلڈوزر چلانے کا فیصلہ، تین دن کا الٹی میٹم جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
دہلی بم دھماکوں کے ملزمین کا الفلاح یونیورسٹی سے تعلق سامنے آنے کے بعد ادارے کے چیئرمین جواد احمد صدیقی کے خلاف سلسلے وار چھاپے مارے گئے، بعد ازاں گذشتہ روز انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کے فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی کے چیئرمین جواد احمد صدیقی پر انتظامیہ اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے۔ مہو میں ان کے گھر کو گرانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ دہلی کار بم دھماکوں کے ملزمین کا الفلاح یونیورسٹی سے تعلق ہونے کی وجہ سے ادارے اور اس کے عہدیداروں کی گھیرا بندی جاری ہے۔ الفلاح یونیورسٹی کے چیئرمین محمد جواد احمد صدیقی مدھیہ پردیش میں مہو کے رہنے والے ہیں۔ جواد احمد صدیقی کا آبائی گھر مہو کے کایستھ محلہ میں واقع ہے۔ جلد ہی اس گھر پر بلڈوزر چلایا جا سکتا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ نے مکان کے ایک حصے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے گرانے کا نوٹس جاری کر دیا۔ کنٹونمنٹ بورڈ نے جواد صدیقی کے مکان پر غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا نوٹس جاری کرتے ہوئے تین دن کی مہلت دی ہے۔ یہ گھر مبینہ طور پر ان کے والد حماد صدیقی کے نام پر ہے۔ بورڈ کے حکام کے مطابق مکان بغیر اجازت کے تعمیر کیا گیا، اس مکان کے حوالے سے ماضی میں بھی نوٹس جاری کئے جا چکے ہیں۔
دہلی بم دھماکوں کے ملزمین کا الفلاح یونیورسٹی سے تعلق سامنے آنے کے بعد ادارے کے چیئرمین جواد احمد صدیقی کے خلاف سلسلے وار چھاپے مارے گئے، بعد ازاں گذشتہ روز انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ واضح رہے کہ دہلی دھماکے کے ملزمین الفلاح یونیورسٹی میں تدریسی سرگرمیاں انجام دے رہے تھے اور جواد احمد صدیقی الفلاح یونیورسٹی کے چیئرمین ہیں۔ جواد احمد صدیقی کا خاندان تقریباً 25 سال قبل مہو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ اس سے پہلے جواد احمد اور ان کا خاندان مہو میں ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ ان کے والد شہر قاضی تھے اور ان کا انتقال 1995ء میں ہوا۔ دہلی کے حالیہ بم دھماکوں کے کلیدی ملزم ڈاکٹر عمر نبی الفلاح یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ تب سے یہ پورا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ اس سلسلے میں کینٹ بورڈ نے مہو کینٹ میں الفلاح یونیورسٹی کی چار منزلہ عمارت سے تجاوزات ہٹانے کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ نوٹس میں تین دن کا وقت دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جواد احمد صدیقی بم دھماکوں کے نوٹس جاری کے ملزمین صدیقی کے
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
اسلام آباد: ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نئے نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا۔
اوگرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا، جس کے بعد ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس پر نئے نرخ نافذ ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران بھی مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نئی قیمتیں ایک نظر میں
پیٹرول: 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر (4.40 روپے اضافہ)
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر (3.62 روپے اضافہ)
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قیمتیں آئندہ حکم نامے تک نافذ العمل رہیں گی۔