آسٹریلیا؛ 16 سال سے کم عمر بچوں پر انسٹاگرام اور فیس بک استعمال کرنے کی مکمل پابندی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر انسٹاگرام اور فیس بک استعمال کرنے میں مکمل طور پر پابندی عائد کردی گئی جو 10 دسمبر سے نافذ العمل ہوگی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے یہ قدم ضروری تھا۔
آسٹریلیا میں حکومتی فیصلے پر سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ نابالغوں کے اکاؤنٹس آئندہ ماہ سے ڈیلیٹ کرنا شروع کردیں گے۔
کمپنی نے مزید کہا ہے کہ متاثرہ صارفین 4 دسمبر سے پہلے اپنا ڈیٹا اور یادیں ڈاؤن لوڈ کر لیں کیونکہ اس کے بعد ان کے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس مکمل طور پر حذف کر دیے جائیں گے۔
تاہم ماہرین نے پرائیویسی اور نوجوانوں کے لیے آن لائن جگہوں کے سکڑنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح بچوں کی اُن مواد تک بھی رسائی رک جائے گی جو ان کے لیے ضروری ہیں۔
آسٹریلیا کے اس قانون کے تحت انسٹاگرام، فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس، اسنیپ چیٹ اور ریڈٹ پر 16 سال سے کم عمر افراد کا استعمال ممنوع ہوگا۔
یوٹیوب پر بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کی رسائی خصوصی ورژن تک محدود ہوگی البتہ واٹس ایپ اور میسنجر پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
حکومت نے متنبہ کیا ہے کہ قانون پر عمل درآمد نہ کرنے والی کمپنیوں پر 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
عمر کی جانچ کے لیے کمپنی میٹا نے کہا کہ عمر کے تعین کے لیے مصنوعی ذہانت سے چہرے یا سرگرمیوں کو دیکھا جائے گا۔
علاوہ ازیں صارفین کی دلچسپیوں، لائکس اور تعاملات سے بھی عمر کا تعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق غلطی کی صورت میں صارف اپنی شناختی دستاویز یا ویڈیو سیلفی سے عمر کی تصدیق کرا سکے گا۔
تاہم میٹا نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں صارفین کی درست عمر کا اندازہ لگانا پورے انڈسٹری کے لیے مشکل کام ہے۔
قانون کے نفاذ کے بعد آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک ہوگا جہاں 16 سال سے کم عمر بچوں کا عام سوشل میڈیا استعمال مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔
ایک سروے میں ملک کے 77 فیصد عوام نے ان پابندیوں کی حمایت کی تھی جس کے پارلیمان نے بھی منظوری دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سال سے کم عمر بچوں کے لیے فیس بک
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔