روبلاکس پر بچوں کی بالغ افراد سے چیٹ پر پابندی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
مشہور آن لائن گیمنگ پلیٹ فارم روبلاکس نے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب بچے پلیٹ فارم پر اجنبی بالغ افراد سے چیٹ نہیں کر سکیں گے۔
اس سلسلے میں چیٹ فیچرز استعمال کرنے والے اکاؤنٹس کے لیے عمر کی لازمی تصدیق متعارف کرائی جا رہی ہے۔
یہ پابندی دسمبر سے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور نیدرلینڈ میں نافذ ہوگی، جبکہ جنوری سے دنیا بھر میں اس کا اطلاق کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: موبائل گیمز کا شوق رکھنے والے صارفین کے لیے فیس بک کا بڑا اعلان
روبلاکس کو طویل عرصے سے اس بات پر تنقید کا سامنا ہے کہ بچے غیر مناسب مواد تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں اور بالغ افراد سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔
امریکا کی متعدد ریاستوں میں پلیٹ فارم پر بچوں کی حفاظت سے متعلق مقدمات بھی دائر ہیں۔
The upcoming changes from @Roblox (preventing users outside of the same age bracket from viewing each other's public chat messages) will break gameplay across thousands of games, including our games Oath of Office, His Majesty's Government, and Command Authority.
Preventing… pic.twitter.com/YakIB4P0Ax
— Jack Jennings (@jackjenningsdev) November 18, 2025
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسٹریلیا 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی نافذ کرنے جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ’اپنے خیالات کی طاقت پر یقین رکھیں‘: سعودی گیم ڈویلپر نے سائنس کو کھیل میں بدل دیا
اور جہاں حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ اس پابندی میں گیمنگ پلیٹ فارمز، بشمول روبلاکس، کو بھی شامل کرے۔
مارچ میں روبلاکس کے چیف ایگزیکٹو ڈیو بَزوکی کا کہنا تھا کہ اگر والدین کو پلیٹ فارم کے حوالے سے خدشات ہیں تو انہیں اپنے بچوں کو اس پر نہیں آنے دینا چاہیے۔
کئی والدین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حفاظتی اقدامات کے باوجود بچے اب بھی پلیٹ فارم پر غیر مناسب مواد یا بالغ افراد سے رابطے کا سامنا کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت کے تاریک پہلو کیا ہیں، دنیا میں کتنے افراد استعمال کر رہے ہیں؟
این ایس پی سی سی کی آن لائن چائلڈ سیفٹی پالیسی مینیجر رانی گووندَر نے کہا کہ نوجوان روبلاکس پر ’ناقابلِ قبول خطرات‘ سے دوچار ہوتے ہیں، جس سے کئی بچے نقصان اور آن لائن بدسلوکی کا شکار بن جاتے ہیں۔
ادارے نے پلیٹ فارم کی کوششوں کو سراہا لیکن زور دیا کہ روبلاکس کو عملی طور پر ایسے اقدامات یقینی بنانے ہوں گے جو بالغ مجرموں کو بچوں تک رسائی سے روکیں۔
سال 2024 میں روبلاکس کے روزانہ کے فعال صارفین کی اوسط تعداد 80 ملین سے زائد رہی، جن میں سے تقریباً 40 فیصد بچے 13 سال سے کم عمر کے تھے۔
مزید پڑھیں:گوگل فوٹوز میں نئے مصنوعی ذہانت کے فیچرز متعارف
برطانیہ کے آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت ٹیک کمپنیوں پر بچوں کو آن لائن نقصان سے محفوظ رکھنے کے سخت قوانین نافذ ہیں، جن پر عمل درآمد کا ذمہ دار آفکوم ہے۔
آفکوم کی آن لائن سیفٹی سپروژن ڈائریکٹر اینا لوکَس نے عمر کی تصدیق کے نئے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔
’پلیٹ فارمز کو اب بچوں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، اور ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ابھی مزید کام باقی ہے، لیکن تبدیلی آرہی ہے۔‘
مزید پڑھیں:قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے گوگل ڈیپ مائنڈ مددگار، جانیں کیسے؟
امریکی ریاست ٹیکساس، کینٹکی اور لوزیانا میں روبلاکس کے خلاف بچوں کی حفاظت کے حوالے سے مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
روبلاکس کا کہنا ہے کہ وہ چیٹ فیچرز تک رسائی کے لیے چہرے پر مبنی عمر کی تصدیق لازمی بنانے والا دنیا کا پہلا بڑا گیمنگ پلیٹ فارم بن رہا ہے۔
کمپنی کے چیف سیفٹی آفیسر میٹ کافمین نے بتایا کہ یہ عمر جانچنے والی ٹیکنالوجی خاصی درست ہے اور 5 سے 25 سال کی عمر کے صارفین کی عمر ایک سے 2 سال کے فرق کے ساتھ پہچان سکتی ہے۔ اس فیچر کا استعمال اس وقت دنیا بھر میں رضاکارانہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا آن لائن سیفٹی سپروژن آفکوم بالغ مجرموں پلیٹ فارم ٹیکساس ٹیکنالوجی روبلاکس سیفٹی آفیسر عمر کی تصدیق گیمنگ گیمنگ پلیٹ فارم لائن بدسلوکی ناقابلِ قبول خطرات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آسٹریلیا ا فکوم بالغ مجرموں پلیٹ فارم ٹیکساس ٹیکنالوجی روبلاکس سیفٹی آفیسر عمر کی تصدیق گیمنگ گیمنگ پلیٹ فارم لائن بدسلوکی ناقابل قبول خطرات گیمنگ پلیٹ فارم بچوں کی حفاظت بالغ افراد سے مزید پڑھیں آن لائن کے لیے عمر کی
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔