ڈی آئی جی کی ای چالان کے جرمانوں میں کمی کی مخالفت، نمبر پلیٹ چھپانے پر ایف آئی آر کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
کراچی ٹریفک کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) پیر محمد شاہ نے عندیہ دیا ہے کہ چالان سے بچنے کیلیے نمبر پلیٹ چھپانے والے شہریوں کیخلاف ایف آئی آر درج ہوگی جبکہ انہوں نے چالان کی قیمت میں کمی کو زیادتی بھی قرار دے دیا۔
کراچی چیمبر آف کامرس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ کراچی ٹریفک مینجمنٹ کمپنی کے ذریعے ٹرانسپورٹ کی انجینئیرنگ کریں گے، اس کمپنی کا چیف ایگزیکٹو ٹریفک مینیجمینٹ میں پی ایچ ڈی یا ماسٹرز ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چالان کی رقم کمپنی جمع کرے گی تو دو سال کے اندر شہر کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ای چالان سے ٹریفک حادثات 96 سے کم ہوکر 46 ہوگئے ۔ ہیوی گاڑیوں میں ٹریکر لگانا اب قانونا لازمی ہوگیا ہے اور خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ پیر محمد شاہ نے کہا کہ ٹریفک انجینئرنگ مردہ گھوڑا ہے اسے زندہ نہ کریں۔
ڈی آئی جی ٹریفک، کمشنر اور میئر کراچی نے کے ٹی ایم سی کی تجویز دی ہے جو کسی بھی وقت فعال ہوسکتی ہے، اسمارٹ سگنل کی لاگت 75لاکھ روپے ہوگی، شہر میں 400 اسمارٹ سگنلز کی ضرورت ہے جس کی مجموعی لاگت تقریبا 30ارب روپے کے قریب بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈمپروں کی فٹنس اور ٹریکنگ کے حوالے سے اقدامات کیے جارہے ہیں، جب تک ڈمپرز اور ہیوی وہیکلز میں ٹریکرز نصب نہیں ہونگے انہیں اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ موسم سرما میں ڈمپرز کے ٹائر اور بریکنگ سسٹم ربڑ ہونے کی وجہ سے حادثات بڑھ جاتے ہیں، ڈمپروں کی فٹنس اورلائسنس ترجیحی بنیادوں پر چیک کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ میں بھی جدت لائی جارہی ہے جو کراچی میں چار مقامات پر کمرشل وہیکلز کے فٹنس سینٹرز قائم کریگا۔ ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ ای چالان کے بعد روزانہ اوسطاً 2 حادثاتی اموات ہورہی ہیں، گزشتہ ماہ ٹریفک کے باعث محض 46 اموات ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں جرمانوں کو قوتِ برداشت کی بناء پر تعین نہیں کیا جاتا۔ پہلی مرتبہ ارتکاب پر سرکار نے جرمانہ معاف کیا ہے۔ 11 سہولت سینٹرز میں جاکر ڈیجیٹل طریقہ کار سے پہلا جرمانہ معاف کروایا جاسکتا ہے۔
پیر محمد شاہ نے کہا کہ جرمانوں میں کمی کرنا قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کے ساتھ زیادتی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل موٹروے نہیں اسی لیے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار کی اجازت نہیں دی جاسکتی، سسٹم کی کامیابی تبھی ممکن ہے کہ جب اس سسٹم کا خوف بیٹھتا ہے۔ اگر سسٹم کا خوف ہی نہیں ہوگا تو تبدیلی کیسے آئے گی؟
انہوں نے عندیہ دیا کہ چالان سے بچنے کیلیے نمبر پلیٹس چھپانے پر ایف آئی آر ہونی ہیں۔
ڈی آئی جی پیر محمد شاہ نے یہ بھی کہا کہ شاہراہ فیصل پر اتنے کیمرے لگ گئے ہیں کہ اب شہریوں کو پل صراط پر چلنا ہوگا۔ دسمبر سے شارع فیصل پر موٹر سائیکلوں کو بائیک لین پر چلانے کا قدم لیں گے۔
قبل ازیں کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر ریحان حنیف، بی ایم جی کے وائس چیئرمین جاوید بلوانی اور چئیرمین لاء اینڈ آرڈر کمیٹی رانا محمد اکرم نے بھی خطاب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیر محمد شاہ نے انہوں نے کہا کہ ڈی ا ئی جی
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش