لاہور ہائیکورٹ بار کا جنرل ہاؤس اجلاس، وکلا کی ریلی، 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ بار کا جنرل ہاؤس اجلاس اختتام پذیر ہوگیا، جس کے بعد وکلا نے ہائیکورٹ بار سے جی پی او چوک تک ریلی نکالی۔
ریلی کی قیادت سلمان اکرم راجا، انتظار پنجوتھا، اظہر صدیق سمیت دیگر وکلا رہنماؤں نے کی۔ ریلی کے دوران وکلا نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف نعرے بازی کی۔
مزید پڑھیں: کیا ہم ایک اور وکلا تحریک کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
لاہور ہائیکورٹ بار کا یہ جنرل ہاؤس اجلاس 27ویں آئینی ترمیم کیخلاف احتجاج ریکارڈ کرانے اور مستعفی ججز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔
اجلاس کی صدارت لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر ملک آصف نسوانہ نے کی۔ اجلاس میں سلمان اکرم راجا، صدر لاہور بار مبشر رحمان چوہدری سمیت دیگر وکلا نے بھی شرکت کی۔
جنرل ہاؤس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہاکہ ہمیں کھڑا ہونا ہے، ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس ملک میں عوام کے حقوق کی جنگ ابھی تک جاری ہے۔ عوام کو حقیر جانا جاتا ہے۔ 8 فروری کو جو ہوا وہ انسانیت کی توہین ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں سول افراد کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوتا ہے۔
سلمان اکرم راجا نے مزید کہاکہ سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل کو رد کیا تھا، مگر بعد میں آئینی بینچ سے اسے منظور کروا لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی آئینی بینچ نے مخصوص نشستیں، جو پی ٹی آئی کو ملنی تھیں، دوسری پارٹیوں کو دے دیں۔
انہوں نے الزام عائد کیاکہ آئینی عدالت کا سربراہ وزیراعظم نے لگایا اور باقی ججز بھی اسی سربراہ نے تعینات کیے۔
انہوں نے کہاکہ وکلا کی یہ برسوں پر محیط جدوجہد ہے، اس لیے نسلوں کے مستقبل کے لیے اٹھنا ہوگا اور گھروں میں نہیں بیٹھا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی پی ٹی آئی کو وکلا تحریک کا ساتھ دینے کی ہدایت
ان کا کہنا تھا کہ 2007 میں جب نکلے تھے تو دروازوں پر زنجیریں تھیں لیکن جذبہ ایمانی نے وہ زنجیریں توڑ دیں۔ آج پھر وقت آگیا ہے کھڑے ہونے کا، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
آخر میں انہوں نے کہاکہ آج اس ملک میں شرافت، آئین اور قانون کی کوئی جگہ نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جنرل ہاؤس اجلاس لاہور ہائیکورٹ بار وکلا کی ریلی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنرل ہاؤس اجلاس لاہور ہائیکورٹ بار وکلا کی ریلی وی نیوز لاہور ہائیکورٹ بار جنرل ہاؤس اجلاس سلمان اکرم راجا انہوں نے کہاکہ
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز