امریکا نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں لگادیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ پابندیاں ایران کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون خریداری نیٹ ورکس پر لگائی گئی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران کی اس غیر قانونی سرگرمی میں متحدہ عرب امارات، ہانگ کانگ، بھارت، جرمنی اور یوکرین کے 32 افراد اور ادارے بھی ملوث ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران اپنے مالیاتی نظام کو استعمال کرتے ہوئے ہتھیاروں کی خریداری اور دہشت گرد گروپس کی مالی مدد کرتا ہے، جب کہ یہ نیٹ ورکس مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ اس کے جوہری خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔
محکمہ خزانہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران پر اقوام متحدہ کی عائد کردہ پابندیوں کو مکمل طور پر نافذ کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران پر
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔