عوامی طاقت سے27ویں آئینی ترمیم ختم کردینگے،بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے27ویں آئینی ترمیم کے خاتمے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی بھی ایک عدالت ہے، عوامی طاقت سے ہم یہ ترمیم ختم کریں گے۔
انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جلدی میں ترامیم منظور کراکے آئین اور جمہوریت کی کشتی کوڈبو دیا گیا۔ عوامی طاقت سے ہم یہ ترامیم ریورس کریں گے، یہ آصف زرداری ، عارف علوی یا کسی اور کا نہیں بلکہ ریاست کا معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی بھی ایک عدالت ہے، ایوان میں بیٹھ کر فیصلے ذاتی مفاد میں نہیں کیے جاتے ، ان ترامیم کو عوامی طاقت سے ختم کریں گے۔
یاد رہے قومی اسمبلی نے 2 تہائی اکثریت سے 27ویں آئینی ترمیم منظور کر لی۔ حکمران اتحاد نے اضافی ترامیم کے ساتھ 27 ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے منظور کروا لی۔
27ویں آئینی ترمیم کے حق میں 234ارکین نے ووٹ دیا، 4 اراکین نے آئینی ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا۔27ویں آئینی ترمیم میں سینیٹ سے منظور ترمیم کو اضافی ترامیم کے ساتھ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 6 اضافی ترامیم پیش کیں، قومی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے 59 ترامیم کی شق وار منظوری دی۔
قومی اسمبلی سے اضافی ترامیم کی منظوری پر بل کو دوبارہ سینیٹ کو بھجوایا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیمی بل میں مزید ترامیم شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں 27ویں آئینی ترمیم میں اضافی ترامیم قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی۔
اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کی اضافی ترامیم الگ فہرست میں موجود ہیں، قومی اسمبلی سے اضافی ترامیم کی منظوری پر بل کو دوبارہ سینیٹ کو بھجوایا جائے گا۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: 27ویں آئینی ترمیم عوامی طاقت سے اضافی ترامیم قومی اسمبلی
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں