ترقی کا راز خوشحال اور پر امن ریاست میں مخفی ہے، خواجہ سلمان رفیق کی علماء کے وفود سے گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نبی کریم ﷺکی سنت پر عمل کرنیوالے جید علماء کرام امت مسلمہ کا فخر ہیں اور ہم رہنمائی کیلئے علماء کرام سے رجوع کرتے رہیں گے۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ معزز علماء کرام ہمیشہ امن کے فروغ اور تشدد کے خاتمے کا درس دیتے ہیں۔ معزز علما و آئمہ کرام کے تمام مسائل کا فوری حل حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر محکمہ داخلہ میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبائی وزیر صحت و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے محکمہ داخلہ میں وفاق المدارس السلفیہ اور اہلسنت و جماعت کے علماء کرام کے وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران امن و امان اور اتحاد بین المسلمین پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاق المدارس السلفیہ کے وفد میں مرکزی نائب امیر جمیعت اہلحدیث پاکستان رانا محمد شفیق خان پسروری، محمد یٰاسین ظفر، محمد سلیمان، عتیق الرحٰمن، حافظ محمد یونس و دیگر موجود تھے۔ اسی طرح اہلسنت و جماعت علماء کرام کے وفد کی قیادت ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کی جبکہ علماء کرام میں ڈاکٹر محمد مفتی انتخاب احمد نوری، مفتی محمد عمران حنفی، پیر محمد حفیظ اظہر، محمد علی نقشبندی اور پیر معاذ المصطفیٰ قادری موجود تھے۔
دونوں ملاقاتوں میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، سیکرٹری اوقاف سید طاہر رضا بخاری، ڈی آئی جی سپیشل برانچ، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سکیورٹی، چیف آپریٹنگ آفیسر پنجاب چیریٹیز کمیشن، ڈپٹی کوآرڈی نیشن آفیسر، پنجاب سینٹر فار ایکسیلنس اینڈ کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ چیئرمین کابینہ کمیٹی خواجہ سلمان رفیق نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا راز ایک خوشحال اور پُرامن ریاست میں مخفی ہے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور ہمیں برداشت، بھائی چارے اور اتحاد بین المسلمین کا درس دیتا ہے۔ پاکستان کی ترقی کیلئے اداروں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے اپنا بنیادی کردار ادا کرنا ہے۔ ریاست پاکستان امن، بھائی چارے اور اتحاد کی امین ہے، جبکہ ملک میں ترقی اور قیام امن کی ذمہ داری معاشرے کے تمام سٹیک ہولڈرز پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نبی کریم ﷺکی سنت پر عمل کرنیوالے جید علماء کرام امت مسلمہ کا فخر ہیں اور ہم رہنمائی کیلئے علماء کرام سے رجوع کرتے رہیں گے۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ معزز علماء کرام ہمیشہ امن کے فروغ اور تشدد کے خاتمے کا درس دیتے ہیں۔ معزز علما و آئمہ کرام کے تمام مسائل کا فوری حل حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ لوگوں کو دین کی صحیح روح سے آگاہ کرنا علماء کرام کی عظیم خدمت ہے۔ علماء کرام نے کہا کہ موجودہ حالات امن و سکون اور سلامتی کا تقاضہ کرتے ہیں اور قیام امن کی ہر کوشش میں ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علماء کرام نے کہا کہ کرام کے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔