آئمہ کرام کی رجسٹریشن کے معاملات آخری مراحل میں ، ہر تحصیل آفس میں خصوصی کائونٹر قائم
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر) پنجاب میں مقامی معززین پر مشتمل مزید موثر مسجد مینجمنٹ کمیٹیوں پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیرصدارت اجلاس میں بتایا گیا امن و امان کے لئے ریاست، علماء اور معززین ایک صف میں ہیں۔ حکومت پنجاب نے مساجد کے نظام کو عوامی امانت بنا دیا ہے۔ اجلاس میں صوبے میں مقامی معززین پر مشتمل مزید موثر مسجد مینجمنٹ کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔ آئمہ کرام کے وظائف کی فوری ادائیگی یقینی بنانے کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔ پنجاب میں مساجد کے آئمہ کرام کی رجسٹریشن کے لئے فارم کی تشکیل آخری مراحل میں داخل ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ہر تحصیل آفس میں خصوصی کاؤنٹر قائم کیے گئے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر آفس میں قائم سپیشل کاؤنٹر پر آئمہ کرام فارم کا پراسیس کیا جائے گا۔ آئمہ کرام کو وظیفہ کے لئے فارم مینوئل اور ڈیجیٹل دونوں شکل میں جمع کرانے کی سہولت دی جارہی ہے۔ آئمہ کرام کو وظائف کی ادائیگی کا عمل چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گا۔ تاریخ میں پہلی بار پنجاب میں دینی اداروں کی مکمل ڈیجیٹل میپنگ اور مدارس و مساجد کا ریکارڈ شفاف ڈیٹا بیس میں محفوظ کر لیا گیا۔ پنجاب بھر کے 20 ہزار 863 دینی مدارس کا مکمل ڈیٹا تیار کر لیا گیا۔ صوبے کی 56 ہزار مساجد کی جیو ٹیگنگ اور نمبرشماری بھی مکمل کر لی گئی۔ لاہور میں محکمہ اوقاف کی زیر نگرانی مساجد میں یکجہتی، ہم آہنگی اور مذہبی بھائی چارے کا نیا دور شروع ہوا ہے۔ صوبے بھر میں 284مساجد میں محکمہ اوقاف اور 47 مساجد میں دیگر آئمہ کرام امامت پر مامور ہیں۔ آئمہ کرام کی دینی اورملی خدمات کے پیش نظر وظائف میں اضافہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ پنجاب میں ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لئے افغان شہریوں کو املاک کرایہ پر دینے والے 64 افرادکو گرفتار کرکے متعدد مقدمات درج کیے گئے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا غیر قانونی افغان باشندوں کے کاروباری تعلق ثابت ہونے پر تین فیکٹری مالکان کیخلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔ جبکہ مریم نواز نے بابا گورو نانک کی جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لئے آنے والے سکھ یاتریوں کا خیر مقدم کیا اور سکھ یاتریوں کی پنجاب آمد پرخوش آمدید کہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے سکھ مہمان یاتریوں کیلئے بہترین انتظامات اور فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ مریم نواز نے کہا سکھ مہمان یاتریوں کو پنجاب میں آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ سکھ یاتری ہمارے مہمان ہیں اور پنجاب کی مہمان نوازی کا دنیا بھر میں چرچا ہے۔ سکھ مہمانوں کو عزت و احترام اور محبت کی یادیں دینا چاہتے ہیں۔ پنجاب میں مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کا ماحول بہتر سے بہترین ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے لئے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔