پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے طلب کیے جانے والے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے، کابینہ کا اجلاس 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کے لیے بلایا گیا تھا جس میں آئینی ترمیم کے مسودے پر بریفنگ دی جانی تھی۔ذرائع کا کہنا ہےکہ حکومتی اتحادیوں کا 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے جب کہ پیپلز پارٹی نے حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) سمیت دیگر اتحادیوں نے گرین سگنل دے دیا ہے تاہم پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اپنی پارٹی سے مشاورت کے بعد مسودے میں ترامیم کرکے حکومت کو آگاہ کرے گی، مسودے پر حکومت اور اتحادیوں کےاتفاق رائے کےبعد وفاقی کابینہ کے اجلاس کا فیصلہ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر پیپلز پارٹی

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی