پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر ڈیڈ لاک برقرار
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے طلب کیے جانے والے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے، کابینہ کا اجلاس 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کے لیے بلایا گیا تھا جس میں آئینی ترمیم کے مسودے پر بریفنگ دی جانی تھی۔ذرائع کا کہنا ہےکہ حکومتی اتحادیوں کا 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے جب کہ پیپلز پارٹی نے حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) سمیت دیگر اتحادیوں نے گرین سگنل دے دیا ہے تاہم پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اپنی پارٹی سے مشاورت کے بعد مسودے میں ترامیم کرکے حکومت کو آگاہ کرے گی، مسودے پر حکومت اور اتحادیوں کےاتفاق رائے کےبعد وفاقی کابینہ کے اجلاس کا فیصلہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر پیپلز پارٹی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔