Islam Times:
2026-06-03@07:35:49 GMT

امن کی آڑ میں گھسنے کی کوشش

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

امن کی آڑ میں گھسنے کی کوشش

اسلام ٹائمز: بین الاقوامی فورس کی غزہ میں تعیناتی منصوبے کے آگے بڑھنے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ اس میں فلسطینیوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہونا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ٹائم ٹیبل، مشترکہ اہداف اور اختیارات فلسطینیوں کو منتقل کیے جانے کے مرحلے کی وضاحت کے بغیر یہ منصوبہ دراصل "نئے انداز میں غاصبانہ قبضے" کی صورت اختیار کر جائے گا۔ جب اس منصوبے میں منتخب مقامی اداروں اور بہت سے فلسطینی گروہوں کی کوئی جگہ نہیں ہو گی تو غزہ اور خطے کی عوام کی نظر میں تشکیل پانے والی نئی انتظامیہ کی مشروعیت پر سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔ موجودہ حالات میں فلسطین اتھارٹی یا دیگر مقامی سیاسی ڈھانچوں جیسے ادارے اس نئے سیٹ اپ میں کسی کردار کے حامل نہیں ہیں۔ فلسطینیوں کی نمائندگی کا نہ ہونا غزہ کی عوام کے لیے قابل قبول سیاسی ڈھانچہ تشکیل پانے میں بھی بڑی رکاوٹ ثابت ہو گا۔ تحریر: مبین مرشدی
 
امریکہ نے غزہ میں بین الاقوامی فورس تعینات کرنے کا ایک ابتدائی مسودہ تیار کر لیا ہے جس کے تحت امریکہ اور اس کے ہمراہ ممالک کو غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھالنے اور سیکورٹی امور کی دیکھ بھال کے لیے وسیع اختیارات سونپ دیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ اگرچہ بظاہر عام شہریوں کی حفاظت اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے بنایا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے ذریعے امریکہ کو فلسطین کے حکومتی امور میں براہ راست مداخلت کا بہترین موقع فراہم ہو جائے گا۔ اس منصوبے کے لیے تیار کیے گئے ابتدائی مسودے کی بنیاد پر تعینات ہونے والی بین الاقوامی فورس اسلامی مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کے فوجی مراکز کو کنٹرول کرنے کی ذمہ دار ہو گی۔ یہ ایسے اقدامات ہیں جن کا براہ راست نتیجہ مقامی دفاعی صلاحیتوں کے کمزور ہو جانے اور غاصب صیہونی رژیم کی پوزیشن مضبوط ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔
 
اسی طرح توقع کی جا رہی ہے کہ یہ بین الاقوامی فورس 2027ء تک غزہ میں ہی رہے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ غزہ میں تشکیل پانے والا یہ نیا انتظامی ڈھانچہ براہ راست امریکہ کی زیر نگرانی کام کرے گا جس کے نتیجے میں غزہ کی سیاسی خودمختاری محدود ہو کر رہ جائے گی۔ دوسری طرف اس منصوبے میں امریکہ کی زیر نگرانی اسرائیلی فوج کی سرگرمیاں بھی شامل ہیں اور یہ اسرائیل کو دی جانے والی ایک بہت بڑی رعایت ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی جنگ بندی کا زیادہ تر مقصد غاصب صیہونی رژیم کی سیکورٹی یقینی بنانا اور امریکہ کے سیاسی مفادات کا تحفظ ہے۔ اس منصوبے میں 16 ممالک شریک ہیں جبکہ 20 غیر حکومتی ادارے بھی شامل ہیں۔ یوں امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ ایک ملٹی نیشنل فورس کو مغربی ایشیا میں اپنا فوجی اور سیاسی اثرورسوخ بڑھانے کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرے۔
 
فلسطینیوں کی آواز سے بے توجہی
بین الاقوامی فورس کی غزہ میں تعیناتی منصوبے کے آگے بڑھنے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ اس میں فلسطینیوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہونا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ٹائم ٹیبل، مشترکہ اہداف اور اختیارات فلسطینیوں کو منتقل کیے جانے کے مرحلے کی وضاحت کے بغیر یہ منصوبہ دراصل "نئے انداز میں غاصبانہ قبضے" کی صورت اختیار کر جائے گا۔ جب اس منصوبے میں منتخب مقامی اداروں اور بہت سے فلسطینی گروہوں کی کوئی جگہ نہیں ہو گی تو غزہ اور خطے کی عوام کی نظر میں تشکیل پانے والی نئی انتظامیہ کی مشروعیت پر سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔ موجودہ حالات میں فلسطین اتھارٹی یا دیگر مقامی سیاسی ڈھانچوں جیسے ادارے اس نئے سیٹ اپ میں کسی کردار کے حامل نہیں ہیں۔ فلسطینیوں کی نمائندگی کا نہ ہونا غزہ کی عوام کے لیے قابل قبول سیاسی ڈھانچہ تشکیل پانے میں بھی بڑی رکاوٹ ثابت ہو گا۔
 
مزاحمت سے جدا نہ ہونے والے ہتھیار
مغربی حکام کے اوہام کے برعکس غزہ میں اسلامی مزاحمت نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ کسی صورت بھی غیر مسلح ہونے پر تیار نہیں ہے کیونکہ وہ مسلح ہونے کو اپنا "قومی اور قانونی حق" تصور کرتی ہے۔ یہ موقف غزہ پر نظارت یا اسلحہ کے کنٹرول جیسے اقدامات کو ناممکن بنا دیتا ہے۔ جب حماس نے واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ ہتھیار پھینکنے پر کوئی سودے بازی نہیں کرے گی تو اب یہ توقع رکھنا فضول ہے کہ اسلامی مزاحمت سے ہتھیار واپس لینے کا عمل سہولت سے اور مکمل طور پر انجام پا سکے گا۔ کئی سالوں تک جنگ اور فوجی کاروائیوں کے باوجود حماس نے اب تک اپنا فوجی ڈھانچہ اور ہلکے ہتھیاروں سمیت اسلحہ اور فوجی سازوسامان محفوظ بنایا ہوا ہے۔ صیہونی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کے لیے اس کا صرف تسلیم ہو جانا کافی نہیں ہے۔
 
اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ غزہ کی عوام کو فریب دینے کے لیے ان کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا، مقامی سیکورٹی سیٹ اپ کی تشکیل اور سیاسی یقین دہانیاں بھی ضروری ہیں۔ جب تک ایسا نہیں ہو جاتا اس وقت تک بین الاقوامی فورس بھی غزہ میں تعینات نہیں کی جا سکے گی کیونکہ وہ اسلامی مزاحمت کی طاقت کے سامنے مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔ اصل میں ایک بامعنی سیاسی عمل اور غزہ کی سیکورٹی کے لیے جائز متبادل فراہم کیے بغیر حماس کا غیر مسلح ہو جانا ناممکن ہے۔ سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ حماس نے "مسلح جدوجہد" کو اپنے تشخص کا حصہ بنا رکھا ہے اور جنگ کے درمیان غیر مسلح ہو کر نہ صرف اپنی سیکورٹی کھو بیٹھے گی بلکہ اس کے سیاسی جواز پر بھی سوال اٹھ کھڑے ہوں گے۔ لہذا بین الاقوامی فورس کی مرکزیت میں ٹرمپ کا منصوبہ بہت تیزی سے بند گلی کا شکار ہو جائے گا۔
 
تشخص چھن جانے کے مقابلے میں استقامت
غزہ کی تعمیر نو کو اسلامی مزاحمت کا تشخص چھین لینے یعنی اسے غیر مسلح کر کے اس کا سیاسی سماجی کردار ختم کر دینے، سے گرہ لگانا تعمیر نو کے عمل کو ناممکن بنا دیتا ہے۔ ایسی تعمیر نو جو سیکورٹی اور خودمختاری کا خاتمہ کر دیتی ہو فلسطینی اسے ہر گز قبول نہیں کریں گے۔ لہذا اگر تعمیر نو کو اسلامی مزاحمت کی نشانیاں ختم کر دینے سے مشروط کر دیا گیا تو نہ صرف اس کا جواز ختم ہو جائے گا بلکہ وہ تناو اور عدم استحکام واپس لوٹ آنے کا باعث بن جائے جائے گی۔ اسلامی مزاحمت کے فعال کردار کو نظرانداز کر کے تعمیر نو کا جو بھی منصوبہ پیش کیا جائے گا اس کی کوئی سماجی اور سیاسی حیثیت نہیں ہو گی۔ مقامی گروہوں کی شراکت داری کے بغیر تعمیر نو کی ہر کوشش وسیع پیمانے پر عدم اعتماد کا باعث بنے گی اور اس سے ایک "مصنوعی غزہ" تشکیل پانے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فلسطینیوں کی نمائندگی بین الاقوامی فورس اسلامی مزاحمت غیر مسلح ہو تشکیل پانے بڑی رکاوٹ نہیں ہو جائے گا کی عوام کے لیے غزہ کی

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا