حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے لبنان حکومت کو 16 ارب ڈالر کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
نیوز پورٹل وائی نِٹ (Ynet) نے بھی اطلاع دی ہے کہ آئندہ جمعرات کو اسرائیلی کابینہ کا سکیورٹی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عبرانی خبررساں ویب سائٹ کے مطابق امریکہ اور جنوبی خلیج کے چند عرب ممالک نے لبنانی حکومت کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کر دے، تو اسے 16 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ تسنیم نیوز کے عبری ذرائع کے مطابق عبرانی ویبسائٹ بوحل نے رپورٹ میں لکھا کہ پہلے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی جو کوششیں کی گئی تھیں وہ ناکام ہو چکی ہیں، اور اسی پس منظر میں امریکہ نے خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ مل کر ایک نیا ترغیبی منصوبہ تیار کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت لبنانی حکومت پر اقتصادی دباؤ بڑھانے اور اسے ترغیب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ حزب اللہ کے فوجی و دفاعی ڈھانچے کو تحلیل کرنے کے لیے آمادہ ہو جائے۔ منصوبے کے مطابق اگر بیروت کی حکومت اس شرط کو قبول کرتی ہے اور حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کر دیتی ہے، تو اسے 16 ارب ڈالر کی خطیر امداد فراہم کی جائے گی۔ اسی سلسلے میں عبرانی نیوز پورٹل وائی نِٹ (Ynet) نے بھی اطلاع دی ہے کہ آئندہ جمعرات کو اسرائیلی کابینہ کا سکیورٹی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حزب اللہ کو
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔