دنیا اُس وقت بدلتی ہے جب خواتین اسے بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہوں، آصفہ بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ’’پرنسس سبیکہ بنت ابراہیم الخلیفہ گلوبل ایوارڈ‘‘ کی تیسری تقریب میں شرکت کی۔ یہ تقریب اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خواتین اور مملکتِ بحرین کی سپریم کونسل برائے خواتین کے اشتراک سے قطر نیشنل کنونشن سینٹر میں منعقد ہوئی۔
خاتونِ اوّل نے اپنے خطاب میں ایوارڈ کے وژن کو سراہا اور مملکتِ بحرین کی خواتین کے حقوق کے فروغ میں قائدانہ کردار کی تعریف کی۔ آصفہ بھٹو زرداری نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو خواتین کی قیادت پر فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم، ہنر مندی، معاشی شمولیت اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انھو نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی معاہدوں، بشمول CEDAW، بیجنگ ڈیکلریشن اور 2030 پائیدار ترقیاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے۔
تقریب کے موقع پر خاتونِ اوّل نے بحرین کی سپریم کونسل برائے خواتین کی سیکریٹری جنرل محترمہ لُلوہ الاوعَدھی، اقوامِ متحدہ کے علاقائی ڈائریکٹر برائے عرب ریاستیں معیذ دورید اور متحدہ عرب امارات کی جنرل ویمنز یونین کی سیکریٹری جنرل نُورہ خلیفہ السویدی سے بھی ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں علاقائی تعاون کے فروغ، ادارہ جاتی شراکت داری کے استحکام اور خواتین کی معاشی و سیاسی شمولیت کے مواقع بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاتونِ اوّل نے مملکتِ بحرین اور اقوامِ متحدہ کی خواتین کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خواتین کی ترقی اور انھیں بااختیار بنانے کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
انکا مزید کہنا تھا کہ دنیا اُس وقت بدلتی ہے جب خواتین اسے بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہوں۔ ہمیں اُن بہادر خواتین کے نقشِ قدم پر چلنا ہے جنہوں نے تاریخ رقم کی اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل تعمیر کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہ پاکستان خواتین کے خواتین کی کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :