موبائل فونز سے پی ٹی اے ٹیکس ختم کیا جائے، علی قاسم گیلانی نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو خط لکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی اسمبلی کے رکن سید علی قاسم گیلانی نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موبائل فونز پر عائد کئے گئے غیر معمولی بلند ٹیکسوں کا فوری جائزہ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیکس نظام لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی میں رکاوٹ بن رہا ہے اور ملک کی ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کو سست کر رہا ہے۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق کمیٹی کے ارکان کو ارسال کیے گئے ایک خط میں گیلانی نے کہا کہ سمارٹ فون اب تعلیم، کاروبار اور سرکاری و مالیاتی خدمات تک رسائی کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
اشتہاریوں کی گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ، لاہور پولیس نے سال 2025 کا شاندار کارکردگی ریکارڈ جاری کر دیا
ان کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے عائد کیے گئے درآمدی ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور رجسٹریشن فیس کی بلند شرحیں عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 500 امریکی ڈالر سے زائد مالیت والے موبائل فونز پر اب 25 فیصد سیلز ٹیکس کے علاوہ 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے۔ مقامی طور پر تیار اور درآمد شدہ فونز پر مزید ٹیکس بھی عائد کیے جاتے ہیں، جن میں ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے تحت وصول کی جانے والی فیسیں بھی شامل ہیں۔
پنجاب اسمبلی غیر قانونی بھرتی کیس: پرویز الہی کی حاضری معافی کی درخواست منظور
گیلانی کا کہنا تھا کہ یہ تمام اخراجات مجموعی طور پر صارفین، خاص طور پر کم آمدنی والے اور پہلی بار اسمارٹ فون خریدنے والوں کے لیے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب موبائل فونز کوئی عیش و عشرت کی چیز نہیں رہے بلکہ معاشی اور سماجی شمولیت کے بنیادی ذرائع ہیں۔ گیلانی کے مطابق ٹیکسوں کا یہ بوجھ ڈیجیٹل شمولیت کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، کاروبار کے اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے اور ملک کے بڑھتے ہوئے آن لائن سروس سیکٹر کی صلاحیت کو محدود کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسیاں اختراعات کی رفتار کم کر سکتی ہیں اور پاکستان کی عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مسابقت کو کمزور کر سکتی ہیں۔
لاہور سے جدہ جانیوالی پی آئی اے کی پرواز پرندہ ٹکرانے کے بعد کراچی میں اتار لی گئی
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایک متوازن پالیسی اپنائی جائے جو ایک طرف قومی ریونیو کو یقینی بنائے اور دوسری جانب اسمارٹ فونز کی سستی فراہمی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو ممکن بنائے۔ گیلانی نے کمیٹی سے درخواست کی کہ وہ اپنے مالیاتی اصلاحات کے دائرہ کار کے تحت اس مسئلے کا فوری جائزہ لے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: موبائل فونز گیلانی نے رہا ہے
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔