نیویارک (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا اپنے اہم ماحولیاتی ہدف یعنی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے میں ناکام ہوگئی ہے اور امکان ہے کہ آئندہ دہائی میں یہ حد عبور ہو جائے گی۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کی سالانہ ’ایمی شنز گیپ رپورٹ‘ میں کہا گیا ہے کہ ممالک کی جانب سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے سست اقدامات کے باعث اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دنیا 2015 کے پیرس معاہدے کے بنیادی ہدف سے تجاوز کر جائے گی۔

یو این ای پی نے کہا کہ ’اس رجحان کو پلٹنا مشکل ہوگا، جس کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیز تر اور بڑے پیمانے پر اضافی کمی درکار ہوگی تاکہ حد سے زیادہ درجہ حرارت میں اضافے کو کم سے کم کیا جا سکے۔‘

رپورٹ کی مرکزی مصنفہ این اولہوف نے کہا کہ اگر اب اخراج میں نمایاں کمی کی جائے تو درجہ حرارت کے حد سے تجاوز کرنے کا وقت مؤخر کیا جا سکتا ہے، لیکن اب ہم اس سے مکمل طور پر بچ نہیں سکتے۔

2015 کے پیرس معاہدے میں ممالک نے عہد کیا تھا کہ صنعتی دور سے پہلے کے درجہ حرارت کے مقابلے میں عالمی اوسط درجہ حرارت میں اضافے کو 2 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھا جائے اور ہدف 1.

5 ڈگری سیلسیس کا رکھا جائے، تاہم یو این ای پی نے کہا کہ حکومتوں کے تازہ ترین وعدوں کے مطابق اگر ان پر عمل کیا جائے تو دنیا کو 2.3 سے 2.5 ڈگری سیلسیس تک حرارت میں اضافہ برداشت کرنا پڑے گا۔

یہ اقوام متحدہ کی گزشتہ سال کی پیشگوئی کے مقابلے میں تقریباً 0.3 ڈگری کم ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ اس سال ممالک بشمول سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے ملک چین کی جانب سے کیے گئے نئے وعدے اس فرق کو کم کرنے میں خاطر خواہ کامیاب نہیں ہو سکے۔

چین نے ستمبر میں وعدہ کیا تھا کہ وہ 2035 تک اپنے اخراج کو عروج کے مقابلے میں 7 سے 10 فیصد تک کم کرے گا، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین عموماً محتاط اہداف طے کرتا ہے مگر اکثر انہیں عبور کر لیتا ہے۔

یہ نتائج اقوام متحدہ کے کوپ 30 ماحولیاتی اجلاس پر دباؤ بڑھا رہے ہیں، جو اس ماہ منعقد ہو رہا ہے، جہاں ممالک یہ بحث کریں گے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو روکنے کے لیے تیز تر اور مالی اقدامات کیسے کیے جائیں۔

پیرس معاہدے کے درجہ حرارت سے متعلق اہداف سائنسی جائزوں پر مبنی تھے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی حرارت کے ہر اضافی درجے سے ہیٹ ویوز، خشک سالی اور جنگلات میں آگ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

مثلاً، 2 ڈگری حرارت میں اضافہ ہونے سے انتہائی گرمی کا سامنا کرنے والی آبادی کا تناسب 1.5 ڈگری کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ ہو جائے گا، 1.5 ڈگری کا اضافہ کم از کم 70 فیصد مرجان کی چٹانوں (کورل ریفس) کو تباہ کر دے گا، جبکہ 2 ڈگری پر یہ شرح 99 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

دنیا نے کچھ پیش رفت ضرور کی ہے، ایک دہائی پہلے جب پیرس معاہدہ ہوا تھا تو زمین تقریباً 4 ڈگری درجہ حرارت کے اضافے کی راہ پر تھی، لیکن حرارت کا سبب والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اضافہ جاری ہے کیونکہ ممالک اپنی معیشتوں کو چلانے کے لیے کوئلہ، تیل اور گیس جلا رہے ہیں۔

یو این ای پی کے مطابق 2024 میں عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 2.3 فیصد اضافہ ہوا، جو 57.7 گیگاٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: درجہ حرارت میں اضافے کو کے مقابلے میں یو این ای پی اقوام متحدہ ڈگری سیلسیس میں اضافہ حرارت کے کے اخراج کے لیے نے کہا

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت