کوئٹہ میں یخ بستہ ہواؤں کے سبب سردی بڑھ گئی، درجہ حرارت میں نمایاں کمی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
کوئٹہ اور بلوچستان کے شمالی اضلاع میں موسم سرد ہوگیا ہے، یخ بستہ ہوائیں چلنے سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔
سردی کی شدت بڑھنے کے بعد شہریوں نے گرم ملبوسات اور کمبل دوبارہ نکال لیے ہیں۔ صبح سویرے اور رات کے اوقات میں ٹھنڈ میں اضافے کے باعث نزلہ، زکام، کھانسی اور سینے کے امراض میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ اسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت 2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ قلات میں درجہ حرارت صفر ڈگری تک جا پہنچا۔
زیارت میں منفی 1، ژوب میں 7، چمن میں 7، نوکنڈی میں 14، سبی میں 17، تربت میں 19، گوادر میں 17 اور جیوانی میں کم سے کم درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک رہے گا، تاہم شمالی اضلاع میں صبح اور رات کے اوقات میں سردی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔