ستائیسویں ترمیم میں دہری شہریت کے خاتمے سمیت کیا کیا تجاویز دی گئی ہیں؟ رانا ثنااللہ نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کا مسودہ کل وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، آئینی ترمیم میں دُہری شہریت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آئینی ترمیم کی سینیٹ سے منظوری کے بعد مسودہ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو بھیجھا جائےگا، جہاں 2 روز تک اس پر بحث ہوگی۔
مزید پڑھیں: حکومت کا 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ وفاقی کابینہ سے پاس کرانے کا فیصلہ، اجلاس طلب
رانا ثنااللہ نے کہاکہ سینیٹ سے اگر آئینی ترمیم کا مسودہ پیر کو منظور ہوا تو اگلے پیر یا منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کردیا جائےگا۔
انہوں نے کہاکہ آئینی عدالت کے قیام پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اتفاق ہے، آرٹیکل 243 میں کچھ نہیں کرنا چاہتے، یہ فورسز کو آئینی کردار دینے سے متعلق نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں کامیابی ملی، تو کمانڈ اسٹرکچر کے بارے میں تجربہ ہوا ہے، اس میں ادارے کی طرف سے کچھ تجاویز دی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ستائیسیوں ترمیم کے مطابق سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کا اسٹیٹس برابر ہوگا، آئینی عدالت کے ججز کی تعداد 8 کے قریب ہو سکتی ہے، جبکہ سپریم کورٹ کا سربراہ چیف جسٹس اور آئینی عدالت کا سربراہ چیف جج کہلائے گا۔
انہوں نے کہاکہ اس بار آئینی ترمیم کا ایک ہی مسودہ آئےگا، ترمیم ہو جاتی ہے تو 4 سال میں مقامی حکومتوں کے الیکشن کرانا لازم ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ امید ہے پیپلز پارٹی این ایف سی ایوارڈ پر مثبت ردعمل دے گی، آرٹیکل 243 اور آئینی عدالت کے معاملے پر دونوں جماعتوں میں اتفاق رائے ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ ججز کے تقرر و تبادلوں کا اختیار جوڈیشل کمیشن کے پاس ہوگا، جوڈیشل کمیشن علیحدہ باڈی ہے جو ججز کو فارغ اور کنفرم کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے اتحادیوں سے مشاورت کرکے اعتماد حاصل کرلیا ہے، مشاورت کے بغیر کوئی عمل نہیں ہوگا، جس چیز پر سب کا اتفاق ہوگا وہ عمل ہو جائےگا۔ جس چیز پر اتفاق نہیں ہو گا اس کو آئندہ وقت کے لیے رکھا جائےگا۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم سے قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں وقفہ کیوں کیا گیا؟
انہوں نے کہاکہ تجویز ہے کہ سول اور آرمی سروس میں دہری شہریت نہیں ہونی چاہیے، ستائیسویں ترمیم کا مسودہ ایوان میں پیش ہوگا، پی ٹی آئی تجویز اور ترمیم دے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئینی ترمیم تجاویز رانا ثنااللہ مشیر وزیراعظم وفاقی کابینہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تجاویز رانا ثنااللہ وفاقی کابینہ وی نیوز انہوں نے کہاکہ ا رانا ثنااللہ نے ا ئینی ترمیم کا ترمیم کا مسودہ ا ئینی عدالت
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔