اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سابق وزیرِاعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قید ہوئے 2 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، جہاں سے ان کی ممکنہ منتقلی کے حوالے سے وقتاً فوقتاً باتیں کی جاتی رہی ہیں۔

اس ضمن میں وفاقی وزرا، پی ٹی آئی رہنما اور صحافی مختلف اوقات میں بیانات بھی دے چکے ہیں، تاہم ابھی تک یہ ’متوقع منتقلی‘ عمل میں نہیں آ سکی۔

وفاقی وزیرڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے گزشتہ اکتوبر میں عمران خان کی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کی جیل منتقلی کا کہا تھا۔

وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا اسلام آباد کی جیل تیار ہو چکی ہے یا نہیں، اور کیا عمران خان کو وہاں منتقل کیا جا سکتا ہے؟

اسلام آباد ماڈل جیل کے قیام کا فیصلہ 2009 میں کیا گیا تھا، تاہم 16 سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔

اس منصوبے پر کام کا باقاعدہ آغاز ایکنک کی منظوری کے بعد 2016 میں کیا گیا تھا۔

ابتدائی تخمینے کے مطابق لاگت خرچ ہونے کے باوجود منصوبہ تقریباً 55 فیصد ہی مکمل ہو سکا ہے۔

جبکہ اب اس کی تخمینے کی لاگت دگنی ہو چکی ہے، تاہم یہ منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوا۔

اس منصوبے کی مستقبلِ قریب میں بھی مکمل ہونے کے امکانات کم ہیں، اس لیے عمران خان کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد جیل منتقلی فی الحال ممکن نظر نہیں آتی۔

اسلام آباد ماڈل جیل سیکٹر ایچ 16 میں تعمیر کی ذمہ داری وزارتِ داخلہ کے زیرِ انتظام سی ڈی اے کی ہے۔

2 ہزار قیدیوں کے لیے مختص اس جیل کے لیے 90 ایکڑ رقبہ حاصل کیا گیا تھا۔

منصوبے کے لیے 27 جولائی 2016 کو قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 3 ارب 92 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری دی تھی۔

جس کے بعد 26 جون 2024 کو سینڑل ڈیولپمنٹ ورکینگ پارٹی نے منصوبے کا نیا تخمینہ 7 ارب 39 کروڑ روپے منظور کیا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق مالی سال 25-2024 میں اس منصوبے کے لیے 1 ارب 32 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے ایک ارب 29 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

رواں مالی سال کے بجٹ میں ایک ارب 18 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اب تک اس منصوبے پر مجموعی طور پر 3 ارب 55 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

جبکہ منصوبہ مکمل کرنے کے لیے مزید 3 ارب 84 کروڑ روپے درکار ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق اسلام آباد جیل کے انتظامی بلاک کا 96 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

آر سی سی کمپاؤنڈ اور باؤنڈری وال کا 98 فیصد، مرد قیدیوں کی بیرکوں اور سیکیورٹی پوسٹس کا 82 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

اسی طرح جیل اسپتال، کچن، ڈسپینسری اور زیرِ زمین واٹر ٹینکس کا 78 فیصد، جبکہ انفرا اسٹرکچر بشمول سڑکیں، ڈرینیج وغیرہ کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسلام آباد کروڑ روپے مکمل ہو چکا ہے جیل کے کے لیے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے