پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق بیان کے بعد قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ آج نہیں تو کل آئینی ترمیم پیش کر دی جائے گی۔ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت حکومت کو مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل نہیں تھی، اس لیے حکومت نے اپوزیشن کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کافی وقت صرف کیا تھا، جس کے بعد ترمیم پیش کی گئی۔

تاہم اس مرتبہ چونکہ آئینی ترمیم کے لیے درکار حمایت حکومت کو حاصل ہے، اس لیے یہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ترمیم جلد پیش کر دی جائے گی۔

پارلیمانی اجلاسوں میں غیر معمولی وقفہ

رواں ہفتے پہلے 4 نومبر کو سینیٹ کا اجلاس طلب کیا گیا تھا، جس کے بعد 5 نومبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا۔ سینیٹ اجلاس میں 2 دن کا وقفہ کیا گیا ہے اور اب اجلاس 7 نومبر کو صبح ساڑھے 10 بجے طلب کیا گیا ہے، جبکہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک روز کا وقفہ کیا گیا ہے اور یہ اجلاس بھی 7 نومبر کو صبح 11 بجے طلب کیا گیا ہے۔

حکومت نے اجلاسوں میں وقفہ کیوں دیا؟

وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ حکومت نے 27ویں ترمیم پیش کیے بغیر قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس میں وقفہ کیوں کیا۔

سینیئر تجزیہ کار حافظ طاہر خلیل نے وی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل پارلیمانی اجلاس میں عارضی وقفہ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن سے مشاورت مکمل کی جا سکے۔

ان کے مطابق اجلاس میں وقفہ اس لیے کیا گیا ہے کہ حکومت ایک ہی ترمیم کے ذریعے آئین میں کم از کم 11 تبدیلیاں کرنے جا رہی ہے، جن میں زرعی اصلاحات، مالیاتی ترامیم اور عدالتی نظام میں ردوبدل شامل ہیں۔

ان مجوزہ ترامیم کے اثرات وسیع نوعیت کے ہیں، لہٰذا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ منظوری سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے اتفاقِ رائے حاصل کیا جائے۔

حکومتی اختلافات اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت

حافظ طاہر خلیل کے مطابق اگرچہ اکثریت کی بنیاد پر ترمیم منظور کرانا ممکن ہے، مگر حکومت نہیں چاہتی کہ یہ اہم آئینی ترمیم متنازع قرار پائے۔ اسی وجہ سے اجلاس میں وقفہ دیا گیا ہے تاکہ اتحادی جماعتوں، خصوصاً پیپلز پارٹی، جے یو آئی، نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم سے مشاورت مکمل ہو سکے۔

ذرائع کے مطابق کابینہ اور حکومتی ارکان میں بھی اس ترمیم کے چند نکات پر اختلاف موجود ہے، خاص طور پر ان شقوں پر جن میں زرعی ٹیکسز اور آئینی عدالت کے قیام کی تجاویز شامل ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ حکومت موجودہ آئینی عدالت کے سربراہ کو توسیع دینے اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز کے لیے سروس ایکسٹینشن کا راستہ کھولنے جا رہی ہے، جس پر بعض حکومتی ارکان نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

حکومت کی حکمتِ عملی اور قومی اتفاقِ رائے

حافظ طاہر خلیل نے کہا کہ اجلاس میں وقفہ دینا حکومت کی ایک حکمتِ عملی ہے تاکہ ترمیم کو جلد بازی کے بجائے قومی اتفاقِ رائے سے منظور کرایا جا سکے۔ ماضی میں بھی ایسی بڑی ترامیم، جیسے 18ویں ترمیم، طویل مشاورت کے بعد ہی ممکن ہو سکی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اجلاس میں وقفہ قومی اسمبلی کیا گیا ہے نومبر کو ترمیم کے حکومت نے کہ حکومت کے بعد کے لیے

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔

نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔

 وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

مزید :

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد