27ویں آئینی ترمیم کے اثرات انتہائی خطرناک ہوں گے، منظور نہیں ہونے دیں گے، اپوزیشن اتحاد
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ 27ویں آئینی ترمیم کو کسی صورت منظور نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ان کے مطابق اس کے اثرات ملک کی آئینی اور سیاسی بنیادوں کے لیے خطرناک ہوں گے۔
اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے صدر محمود خان اچکزئی کی قیادت میں ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ اجلاس طلب کرنے کا مقصد ملک میں آئینی اور سیاسی خدشات کو اجاگر کرنا تھا۔
میاں نواز شریف صاحب کچھ سال پہلے ووٹ کو عزت دینے کے لیے روڈوں پر تھے ان کا ایک نعرہ تھا ووٹ کو عزت دو۔ میاں صاحب وہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ کدھر گیا۔؟ 8 فروری کو اپکو اصولی فیصلہ کرنا چاہیے تھا کہ اس حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہتے وہ آپ نے نہیں کیا یہ جو آپ کو منتوں ترلوں ، پاؤں… pic.
— Asad Qaiser (@AsadQaiserPTI) November 4, 2025
اسد قیصر نے الزام لگایا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ایک پنڈورا باکس کھولا گیا ہے اور بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ ٹوئٹ سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی کا کردار محض عوام کو دکھانے کے لیے ہے جبکہ فیصلہ پہلے ہی طے پا چکا ہے۔
انہوں نے پی پی پی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو نے آئین کی بنیاد رکھی، اور بینظیر بھٹو نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی، مگر آج کی پیپلز پارٹی جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسد قیصر نے میاں نواز شریف پر بھی طنز کیاکہ وہ ووٹ کو عزت دینے کے دعوؤں میں کہاں ہیں۔
اس موقع پر سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہاکہ ملک میں جبر کا نظام نافذ ہو چکا ہے اور شہریوں کو آئینی حقوق حاصل نہیں ہو رہے۔ انہوں نے بلاول بھٹو کے ٹوئٹ اور آئینی ترامیم پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ نئی عدالتوں اور ججوں کی ٹرانسفر کے نظام سے انصاف متاثر ہو سکتا ہے۔
مصطفی نواز کھوکھر نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی تقرری اور صوبوں کے اختیارات میں تبدیلی کے ذریعے حکومت اپنی مرضی نافذ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
انہوں نے اعلان کیاکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اس ترمیم کو منظور نہیں ہونے دے گی اور میڈیا، سول سوسائٹی اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر اس کے خلاف عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی۔
سابق گورنر سندھ زبیر عمر نے میاں نواز شریف سے درخواست کی کہ وہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر موقف واضح کریں اور اپنے قریبی حلقوں کو اس اقدام سے روکیں۔
مزید پڑھیں: کیا 27ویں ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم واپس ہونے جا رہی ہے؟
انہوں نے وفاقی وزرا کی حالیہ پریس کانفرنسز پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اس میں عوامی مسائل جیسے مہنگائی، بیروزگاری اور غربت پر بات نہیں ہوئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئینی ترمیم اپوزیشن اتحاد اسد قیصر اعلان تحریک تحفظ آئین محمود اچکزئی وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن اتحاد اعلان تحریک تحفظ ا ئین محمود اچکزئی وی نیوز تحریک تحفظ ووٹ کو عزت کرتے ہوئے انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟