بنگلہ دیش: جبری گمشدگی کے جرائم پر سخت سزائیں دینے کا فیصلہ، آرڈیننس منظور
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی مشاورتی کونسل نے 2025 کے لیے ’جبری گمشدگی کی روک تھام، علاج اور تحفظ‘ کے مسودے کی حتمی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اغوا یا جبری گمشدگی کے مرتکب افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا موت ہوگی۔
چیف ایڈوائزر پروفیسر یونس کے پریس سیکریٹری شفیق العالم نے جمعرات کو فارن سروس اکیڈمی ڈھاکہ میں مشاورتی کونسل کے اجلاس کے بعد یہ اعلان کیا۔ اجلاس کی صدارت چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کی۔
مزید پڑھیں: پولیس اصلاحات: آئرلینڈ کی بنگلہ دیش کو معاونت فراہم کرنے کی پیشکش
پریس سیکریٹری کے مطابق یہ آرڈیننس متاثرین کے لیے انصاف یقینی بنانے اور جبری گمشدگی کے خلاف سخت قانونی فریم ورک قائم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس پر طویل عرصے سے انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔
مسودے کو پہلے پالیسی کی منظوری حاصل تھی، تاہم کونسل کے حالیہ اجلاس میں اسے باضابطہ نفاذ کے لیے حتمی شکل دی گئی ہے۔
تجویز کردہ قانون میں جرم کے مرتکب افراد کے لیے موت کی سزا اور معاونین یا سہولت فراہم کرنے والوں کے لیے سخت قید کی سزائیں شامل ہیں۔
یہ اقدام حکومت کے اس حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے لیے علیحدہ کمیشن قائم نہ کیا جائے بلکہ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے دائرہ کار میں ان معاملات کی تحقیقات شامل کی جائیں۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ نیا قانونی فریم ورک عبوری مدت کے دوران قانون کی بالادستی اور جوابدہی کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس کے بعد قومی انتخابات ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پروفیسر یونس کے روڈ میپ کی حمایت کرتے ہیں، نئے انتخابات کے بعد استحکام آئےگا، بنگلہ دیشی فوج
رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں حالیہ برسوں میں 1900 سے زیادہ جبری گمشدگیوں کی شکایات موصول ہو چکی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نئے آرڈیننس کے ذریعے ذمہ دار افراد کو سب سے اعلیٰ سطح کے انصاف کے تقاضوں کے مطابق سزا دی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آرڈیننس بنگلہ دیش پروفیسر یونس جبری گمشدگی چیف ایڈوائزر مشاورتی کونسل وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رڈیننس بنگلہ دیش پروفیسر یونس جبری گمشدگی چیف ایڈوائزر مشاورتی کونسل وی نیوز جبری گمشدگی بنگلہ دیش کے مطابق کے لیے کے بعد
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔