لیاری کی بے نظیر یونیورسٹی میں قیام کے بعد پہلی بار پروفیسرز کے عہدے پر تقرریاں
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں قیام کے 14 برس بعد پہلی بار پروفیسر کے عہدے پر تقرریاں کردی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق لیاری یونیورسٹی سندھ کی وہ واحد یونیورسٹی تھی جس میں قیام سے تاحال کوئی پروفیسر ہی نہیں تھا اور 2012 میں قائم ہونے والی یونیورسٹی قیام کے 14ویں برس تک بغیر پروفیسر کے جونیئر فیکلٹی پر ہی چلائی جارہی تھی۔
اسی سبب یونیورسٹی کی تمام فیکیلٹیز بھی بغیر ڈین کے کام کررہی تھیں تاہم 5 نومبر کو لیاری یونیورسٹی کے رجسٹرار کیپٹن (ر) رضا حیدر کے دفتر سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تین اساتذہ کو پروفیسر کے عہدے پر ترقی دے کر تعینات کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ایسوسی ایٹ پروفیسر س کے علاوہ ہیں نوٹیفکیشن کے مطابق 21 جولائی 2025 کو سنڈیکیٹ کے 18ویں اجلاس میں منظور شدہ قرارداد نمبر 3 کی تعمیل میں فیکلٹی اراکین کو اگلے عہدوں پر ترقی دی گئی ہے۔
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
محنت کشوں کو اپنے مسائل کے حل کیلیے سخت جدوجہد کرنا ہوگی‘ پروفیسر شفیع
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) محنت کشوں کو اپنے مسائل کے حل کیلیے انتھک جدوجہد کرنا ہوگی۔ پاکستان میں لیبر قوانین کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور محنت کشوں کے حقوق غصب کیے جارہے ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے ملک میں غربت میں اضافہ کردیا ہے۔ الکاسب فورم کے تحت محنت کشوں کے مسائل حل کریں گے اور محنت کشوں کی تربیت کے پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے۔ یہ بات وی ٹرسٹ کے چیئرمین پروفیسر محمد شفیع ملک نے الکاسب فورم کے قیام اور اس کے پہلے اجلاس اور مذاکرہ ’’محنت کشوں کے مسائل اور ان کا حل‘‘ سے اپنے صدارتی خطاب میں کہی۔ الکاسب فورم کے انچارچ قاسم جمال نے الکاسب فورم کے قیام کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔پروفیسر شفیع ملک نے کہا کہ این ایل ایف کے تعاون اور مشاورت سے ہم الکاسب فورم کو چلائیں گے اور اس فورم میں شریک ہونے والی شخصیات این ایل ایف ہی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش انتہائی مصائب اور پریشانی کا شکار ہیں اور ان سے نجات کاواحد راستہ محنت کشوں کا اتحاد اور ان کی تربیت ہے۔ محنت کشوں کو قانونی تربیت فراہم کر کے ان کی مشکلات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ اس فورم کے نتائج چھے ماہ کے بعد برآمد ہوں گے۔