Islam Times:
2026-07-24@05:17:22 GMT

جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں

اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT

جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں

اسلام ٹائمز: طالبان کے سربراہ ملا عمر نے تحریک شروع کرنے سے پہلے دارالعلوم حقانیہ سے گریجویشن کیا۔ 1990ء کی دہائی میں افغان طالبان کی صفوں میں اضافہ کرنے کے لیے دارالعلوم حقانیہ اور دیگر مدارس سے ہزاروں کی تعداد میں طلباء بھرتی کیے گئے۔ طالبان کی تشکیل سے پہلے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے مجاہدین رہنما گلبدین حکمت یار کی حمایت کی جو پاکستان میں مولانا فضل الرحمان کی حریف اسلامی سیاسی جماعت ”جماعت اسلامی“ کے ساتھ منسلک تھے۔ مولانا فضل الرحمن اور بے نظیر دونوں ہی جماعت اسلامی کی قیادت کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ جماعت اسلامی نے مرحوم جنرل ضیاء الحق کی حمایت کی تھی جنہوں نے 1979ء میں بے نظیر کے والد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تختہءدار پر لٹکایا تھا۔ مولانا فضل الرحمان اس موقع پر بے نظیر بھٹو کے ساتھ مل کر طالبان بنانے اور انہیں پروان چڑھانے کے لیے تیار ہوگئے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو جنہیں 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے قتل کا حکم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کہلانے والے طالبان کے پاکستانی ونگ کے سربراہ بیت اللہ محسود نے دیا تھا۔محسود بعد میں 2009ء میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ تحریک طالبان کی داغ بیل ڈالنے میں بینظیر بھٹو اور ان کے دست راس، اس وقت کے وزیر داخلہ جنرل نصیر اللہ بابر کا اہم کردار ہے۔ 1993-1996ء میں بینظیر کے دور اقتدار میں طالبان منصہء شہود پر آئے۔ طالبان تحریک کی تخلیق میں بینظیر بھٹو کے اسی کردار کی وجہ سے انہیں طالبان کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔ بے نظیر اور جنرل بابر کی محنت سے طالبان جلد ہی ایک قوت بن گئے۔ انہوں نے سوویت یونین کے خلاف لڑنے والی افغان جماعتوں کو شکست دی اور صرف چند سالوں میں ہی افغانستان کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا۔

پاکستان کی حمایت سے کابل پر برسراقتدار آنے والے طالبان اس قدر پُراعتماد ہوگئے کہ انہوں نے پاکستان کے دباؤ کے باوجود ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی پاک افغان سرحد کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ طالبان تحریک کی پیدائش اور اس کی نشوونما میں بینظیر بھٹو کے کردار کو احمد رشید نے اپنی انتہائی قابل اعتماد اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب "دی طالبان: اسلام، آئل اینڈ دی نیو گریٹ گیم ان سنٹرل ایشیا" میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ کتاب کے صفحہ 90 پر مصنف کچھ طوالت کے ساتھ بتاتے ہیں کہ کس طرح جمعیت علمائے اسلام (JUI-F) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بے نظیر کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اتحاد میں شمولیت اختیار کی اور اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے افغان-پاکستان سرحد کے ساتھ سیکڑوں مدارس قائم کیے، جن میں دارالعلوم حقانیہ بھی شامل تھا۔

طالبان کے سربراہ ملا عمر نے تحریک شروع کرنے سے پہلے دارالعلوم حقانیہ سے گریجویشن کیا۔ 1990ء کی دہائی میں افغان طالبان کی صفوں میں اضافہ کرنے کے لیے دارالعلوم حقانیہ اور دیگر مدارس سے ہزاروں کی تعداد میں طلباء بھرتی کیے گئے۔ طالبان کی تشکیل سے پہلے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے مجاہدین رہنما گلبدین حکمت یار کی حمایت کی جو پاکستان میں مولانا فضل الرحمان کی حریف اسلامی سیاسی جماعت ”جماعت اسلامی“ کے ساتھ منسلک تھے۔ مولانا فضل الرحمن اور بے نظیر دونوں ہی جماعت اسلامی کی قیادت کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ جماعت اسلامی نے مرحوم جنرل ضیاء الحق کی حمایت کی تھی جنہوں نے 1979ء میں بے نظیر کے والد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو  تختہءدار پر لٹکایا تھا۔ مولانا فضل الرحمان اس موقع پر  بے نظیر بھٹو کے ساتھ مل کر  طالبان بنانے اور انہیں پروان چڑھانے کے لیے تیار ہوگئے۔

رشید اس حوالے سے مولانا فضل الرحمن کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 1992ء میں مجاہدین کے کابل پر قبضے کے بعد  مولانا فضل الرحمن کی JUI کے جنوبی پشتونوں پر بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو نظر انداز کیا گیا۔ جے یو آئی اس وقت تک پاکستان میں سیاسی طور پر الگ تھلگ تھی اور بھٹو کی حکومت میں اپوزیشن میں رہی۔ تاہم جے یو آئی نے  بینظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ اتحاد کیا۔ یوں پہلی بار جے یو آئی کو اقتدار کی راہداریوں تک اجازت دی گئی اور اسے موقع دیا گیا کہ وہ فوج اور وزارت داخلہ کے ساتھ تعلقات قائم کرے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب پاکستان کے حکام نے ایک ایسے نئے پشتون گروپ کی تلاش شروع کی جو افغانستان میں پشتونوں کو برسر اقتدار لا کر ان کے ذریعے افغانستان میں پاکستان کے لیے ایک ”اسٹریٹیجک ڈیپتھ “ قائم کرے نیز جنوبی افغانستان کے راستے پاکستانی تجارت کو افغانستان تک رسائی فراہم کر سکے۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کا چیئرمین بنا دیا گیا، جس کی وجہ سے وہ پہلی بار یورپی ممالک کے دورے کے لیے پاکستانی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوگئے۔ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کو طالبان کی مالی معاونت کے لیے تیار کیا گیا۔

11 ستمبر 2001ء کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد یہ دیکھنا آسان ہے کہ بے نظیر بھٹو کا مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی کے ساتھ اتحاد اور طالبان کی تشکیل اور پرورش کی ان کی مشترکہ پالیسی نہ صرف بینظیر کے لیے بلکہ لاکھوں افغانوں اور پاکستانیوں کے لیے بھی مہلک تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے والد کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا تھا جو اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کے لیے شروع میں ان لوگوں کے دام میں آ گئے جنہوں نے بعد میں ان کو تختہء دار تک لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج طالبان ایک بار پھر اپنے ان محسنوں کے خلاف نبرد آزما ہیں جنہوں نے کبھی اس پودے کی تخم ریزی کی تھی اور پھر اس کی آبیاری کر کے اسے تن آور درخت کی صورت دی تھی۔ آج وہ درخت اپنے باغبانوں کو سایہ دینے کی بجائے ان کے سروں پر عذاب کی صورت میں منڈلا رہا ہے۔
جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں
ان کو زباں ملی تو ہمیں پر برس پڑے

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان مولانا فضل الرحمن دارالعلوم حقانیہ جماعت اسلامی نظیر بھٹو کے بے نظیر بھٹو بینظیر بھٹو کی حمایت کی کے سربراہ طالبان کی جے یو آئی جنہوں نے کی قیادت سے پہلے کے ساتھ نظیر کے کی تھی کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو