مسائل و بحرانوں کا حل اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے‘ مولانا عبد الماجد
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) پاکستان امن کونسل سندھ، مرکزی علماکونسل پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صد مولانا عبد الماجد فاروقی نے کہا ہے کہ ملک کے مسائل و بحرانوں کا حل اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے, یر قسم کی دہشت گردی سے نجات کا واحد راستہ بھی صرف اور صرف قرآن و سنت ہے حکمرانوں کو اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک عملی طور پر قرآن و سنت کا نظام قائم نہیں ہوگا قوم کی مسائل و بحرانوں سے نجات ناممکن ہے ان خیالات کا اظہار مولانا عبد الماجد فاروقی نے مدرسہ تعلیم القرآن کے لائبریری ہال میں مولانا محمد عکاشہ کے ہمراہ قاری محمد اسحاق چشتی کی قیادت میں آنے والے معززین کے وفد سے گفتگو کے دوران کیا مولانا عبد الماجد فاروقی نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کو مسلکی اختلافات سے بالا تر ہو کر اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ایک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہوکر جدوجہد کرنا چاہیے تبہی پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کا سنہرا دور آئے گا ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے قیام کو 78سال ہو گئے ہیں مگر وطن عزیز اپنے قیام کے مقاصد سے تاحال دور ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی نظام کے نفاذ مولانا عبد الماجد
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔