27ویں آئینی ترمیم کے بارے میں 7 بڑے پروپیگنڈے اور ان کے برعکس حقائق
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
وہ عناصر جو نہیں چاہتے کہ پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام آئے وہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر طرح طرح کا پروپیگنڈا پھیلا رہے۔ اس حوالے جو گمراہ کن باتیں پھیلائی جا رہی ہیں ان میں سے 7 بڑے پروپیگنڈے یہ ہیں:
پروپیگنڈا نمبر 1: اقتدار پر قبضے کی کوششجب کہ حقیقت میں یہ اختیارات چھیننے کی نہیں بلکہ اداروں کو بہتر بنانے کی کوشش ہے۔
اس ترمیم کا مقصد آئینی تنازعات کے تیز تر حل کے لیے ایک آئینی عدالت قائم کرنا ہے تاکہ سپریم کورٹ صرف اپیلوں اور نظائر پر توجہ دے سکے۔
پروپیگنڈا نمبر 2: عدلیہ کی آزادی کمزور ہوگیجب کہ حقیقت میں یہ عدلیہ کی آزادی کو مضبوط کرتی ہے۔
ججوں کی تعیناتی اور مدتِ کار کو واضح اور معیاری بنا کر پسند و ناپسند اور ذاتی اثر و رسوخ کے تاثر کو ختم کیا جائے گا تاکہ آزادی ایک اصول بنے، رعایت نہیں۔
پروپیگنڈا نمبر 3: صوبائی خودمختاری متاثر ہوگیجب کہ حقیقت میں این ایف سی ایوارڈ کی نظرِ ثانی کا مقصد مرکزیت نہیں بلکہ مالی توازن ہے۔ وفاق اختیارات واپس نہیں لے رہا بلکہ محصولات اور اخراجات کے فرق کو بہتر طریقے سے متوازن کر رہا ہے تاکہ صوبائی خودمختاری کاغذ پر نہیں بلکہ عمل میں برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیں:27ویں ترمیم کے مسودے پر نواز شریف سے مشاورت ہوگی، سینیٹ سے پاس کروانے کے لیے پی ٹی آئی سے بھی رابطہ ہے: خرم دستگیر
پروپیگنڈا نمبر 4: فوج کو سیاسی بنایا جا رہا ہےجب کہ حقیقت میں یہ تبدیلی کمان کے ڈھانچے میں نہیں بلکہ تصور میں جدت لاتی ہے۔
جدید جنگ کے تقاضے ’مشترکہ منصوبہ بندی اور ہم آہنگی‘ پر مبنی ہیں۔
اس ترمیم کا مقصد یہی واضح کرنا ہے کہ سول اور عسکری سطح پر ہم آہنگی آئینی حدود میں رہتے ہوئے مضبوط بنائی جائے۔
پروپیگنڈا نمبر 5: الیکشن کمیشن کمزور ہوگاجب کہ حقیقت میں یہ الیکشن کمیشن کو مضبوط بنانے کی سمت ہے۔
چیئرمین اور ممبران کی تعیناتی میں سیاسی تعطل ختم کرنے کے لیے واضح ٹائم لائن اور غیر جانبدار نامزدگی کا طریقہ شامل کیا جا رہا ہے تاکہ کمیشن زیادہ خودمختار اور مؤثر ہو۔
پروپیگنڈا نمبر 6: مجسٹریٹ کے اختیارات پرانی حکمرانی واپس لائیں گےجب کہ حقیقت میں یہ محدود اور محفوظ انتظامی اصلاح ہے۔
یہ بھی پڑھیں:27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو اہم ٹاسک دے دیا گیا
چھوٹے مقدمات اور تنازعات کے فوری حل کے لیے محدود مجسٹریسی اختیارات عدالتی نگرانی میں بحال کیے جائیں گے تاکہ عوام کو تیز تر انصاف مل سکے۔
پروپیگنڈا نمبر 7: یہ انقلابی تبدیلی ہےجب کہ حقیقت میں 27ویں ترمیم انقلاب نہیں، ارتقا ہے۔ یہ پاکستان کے آئینی سفر کا پختگی کا مرحلہ ہے، اقتدار کی تقسیم نہیں بلکہ اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا قدم۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
27 ترمیم پروپیگنڈا 27ترمیم آئینی ترمیم الیکشن کمیشن پاکستان عدلیہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 27 ترمیم پروپیگنڈا الیکشن کمیشن پاکستان عدلیہ جب کہ حقیقت میں یہ پروپیگنڈا نمبر نہیں بلکہ کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔