اوپن اے آئی کی ٹیکسٹ ٹو ویڈیو ایپ ’’سورا‘‘ اب اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بھی دستیاب
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی نے اپنی مشہور ویڈیو جنریشن ایپ ’سورا اے آئی‘ کو اب اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بھی متعارف کرادیا ہے۔ اس ایپ نے چند ہفتے قبل آئی او ایس پر لانچ ہوتے ہی زبردست مقبولیت حاصل کی تھی، جہاں صرف پانچ دنوں میں اسے 10 لاکھ سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔
سورا ایپ دراصل آڈیو اور ویڈیو جنریشن ماڈل پر مبنی ہے، جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے انتہائی حقیقی اور قدرتی نظر آنے والی ویڈیوز تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس ایپ نے مقبولیت کے لحاظ سے چیٹ جی پی ٹی کی موبائل ایپ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
دنیا بھر میں چونکہ تقریباً 70 فیصد صارفین اینڈرائیڈ ڈیوائسز استعمال کرتے ہیں، اس لیے سورا ایپ کی ریلیز سے اس کی رسائی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ایپ میں ٹک ٹاک جیسی فیڈ موجود ہے جس میں صارفین کی تیار کردہ اے آئی ویڈیوز دیکھی جا سکتی ہیں، جب کہ ’کیمو‘ نامی ٹول کے ذریعے صارف خود اپنی ویڈیوز کے مرکزی کردار بن سکتے ہیں۔
ابتدائی طور پر یہ ایپ امریکا، کینیڈا، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، تھائی لینڈ اور ویتنام کے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہوگی۔ اوپن اے آئی کے مطابق دیگر ممالک میں بھی اس کی دستیابی پر کام جاری ہے۔
سورا ایپ میں صارف اپنی مرضی کی ہدایات دے کر اے آئی ویڈیوز تخلیق کر سکتا ہے اور انہیں شیئر فیڈ پر پوسٹ بھی کر سکتا ہے۔ ابتدا میں یہ پلیٹ فارم صرف ’انوائیٹ اونلی‘ صارفین تک محدود تھا، تاہم اب محدود وقت کے لیے عام صارفین کو بھی اس تک رسائی حاصل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔