27ویں ترمیم نے ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کی: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
وزیرِ دفاع خواجہ آصف—فائل فوٹو
وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم نے ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کی، امکان ہے اس آئینی ترمیم کو اگلے ہفتے ایوان میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی مقدمات 6 فیصد ہونے کے باوجود پیچیدہ ہونے کی وجہ سے وقت لیتے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جو ججز روزانہ مقدمات کو سنتے ہیں وہی آئینی مقدمات کو بھی دیکھتے ہیں، بینچز بنا کر بہتری کی جا رہی ہے مگر تنقید ہوتی ہے، کورٹ وِد اِن کوٹ بن گئی ہے۔
پارلیمنٹ سے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے معاملے پر اتفاقِ رائے کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسپیکر ایاز صادق کو اہم ٹاسک دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک تجویز یہ ہے کہ الگ آئینی عدالت ہو جس میں ہر صوبے کی نمائندگی ہو، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر ڈیڈ لاک کا معاملہ تیسرے ادارے کے پاس چلا جائے گا۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کے پی الیکشن میں تاخیر ہوئی تھی اس کی وجہ سے آئینی پیچیدگیاں ہونے کا امکان ہے، چاہتے ہیں جو ڈیڑھ سال کا وقفہ ہوا ہے اس میں ان کی مدت بھی پوری ہو اور آئینی پیچیدگی نہ ہو، سینیٹ کے الیکشن، صدارتی الیکشن سمیت دیگر پیچیدگیاں نہ آئیں وہ سقم دور کرنے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ججز کے ٹرانسفر کا معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جائے گا، آرٹیکل 243 میں ترمیم پر مشاورت کی جا رہی ہے، دفاعی تقاضے بدل گئے ہیں، یہ سارا کام باہمی مشاورت سے ہو گا۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 243 میں ترمیم جب تک فائنل نہیں ہوتی کچھ نہیں کہہ سکتا، آئینی ترمیم پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے، اتفاقِ رائے کے حوالے سے دو تین دن میں واضح ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو صورتِ حال خراب ہو سکتی ہے، ہماری سر زمین کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ہم بھی وہی کریں گے جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دفاع خواجہ ا صف کا کہنا ہے کہ کہا کہ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ