امریکی اور چینی صدر کی ملاقات: ٹرمپ کا چین پر ٹیرف 10 فیصد کم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251031-01-15
بوسان(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں 6 سال بعد اہم ملاقات ہوئی ہے۔امریکی صدر نے چینی ہم منصب سے مکالمہ کیا کہ آپ سے دوبارہ مل کر خوشی ہوئی۔ٹرمپ نے چینی صدر سے ملاقات کے بعد ٹیرف میں 10 فیصد کمی کا اعلان کیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین پر عاید ٹیرف کو 57 سے کم ہو کر47 فیصد کردیا گیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔امریکی صدر نے کہا کہ چینی صدر کے ساتھ ملاقات بہت اچھی رہی، صدر شی سے ملاقات میں بہت سارے فیصلے کیے گئے،امریکا اور چین کے درمیان بہت سی چیزوں پر اتفاق ہوچکا۔ان کا کہنا تھا کہ سویابین کی خریداری فوری طور پر شروع ہوجائے گی اور نایاب معدنیات کے معاملات میں مزید رکاوٹیں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال اپریل میں چین کا دورہ کروں گا اور میرے دورہ چین کے بعد چینی صدر امریکا آئیں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہم چینی صدر کے ساتھ یوکرین معاملے پر مل کر کام کرنے جارہے ہیں جب کہ تائیوان کے معاملے پر بات چیت نہیں ہوئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دیگرممالک ایٹمی تجربے کررہے ہیں تو امریکا کے لیے بھی مناسب ہے کہ یہ تجربے بحال کرے اور اس کے لیے نیوکلیئر ٹیسٹنگ سائٹس کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔ دریں اثناء چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ چین اور امریکا کے درمیان تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھنے کو تیار ہوں‘ دونوں ممالک کو بدلہ لینے کے خطرناک چکر میں نہیں پڑنا چاہیے بلکہ تعاون اور استحکام کے راستے پر آگے بڑھنا چاہیے۔چینی صدر نے کہا کہ چین کی معیشت سمندر کی طرح وسیع اور مضبوط ہے، جو ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کبھی کسی ملک کو چیلنج کرنے یا اس کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اپنی ترقی اور کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دیتا ہے۔ شی جن پنگ نے زور دیا کہ بات چیت محاذ آرائی سے بہتر ہے اور چین امریکا تعلقات میں تجارت اور معیشت کو بنیادی ستون ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی ٹیموں کو ملاقات کے نکات پر فالو اپ کرنا چاہیے تاکہ دوطرفہ تعلقات میں وسعت پیدا ہو۔ چینی صدر نے مزید کہا کہ اقتصادی اور تجارتی ٹیموں نے تفصیلی گفتگو کے بعد کئی امور پر اتفاق کیا ہے، جن میں غیر قانونی امیگریشن، ٹیلی کام فراڈ، مصنوعی ذہانت (AI) کے غلط استعمال اور منی لانڈرنگ کے خلاف تعاون شامل ہیں۔چینی سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے رہنماؤں نے توانائی، تجارت اور باہمی بات چیت کے تسلسل پر بھی اتفاق کیا ہے جبکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے چین پر عاید ٹیرف میں 10 فیصد کمی کے اعلان کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو فوری طور پر جوہری ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں سابق صدر نے کہا کہ انہوں نے محکمہ جنگ کو ہدایت کی ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی جانچ کا عمل فوراً شروع کیا جائے تاکہ امریکا اپنے حریف ممالک کے برابر کھڑا ہو سکے۔ٹرمپ کے مطابق دنیا میں امریکا کے پاس سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، روس دوسرے نمبر پر ہے جبکہ چین آئندہ پانچ برسوں میں امریکا کے برابر آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کسی بھی ملک سے پیچھے نہیں رہ سکتا اور قومی سلامتی کے لیے نیوکلیئر ٹیسٹنگ ناگزیر ہو چکی ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ دیگر ممالک اپنے ایٹمی تجربات کر رہے ہیں، اس لیے امریکا کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی دفاعی تیاریوں کو جدید بنائے۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے اور ماہرین نے ممکنہ نیوکلئیر اسلحہ کی دوڑ پر خبردار کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صدر نے کہا کہ امریکی صدر امریکا کے چینی صدر انہوں نے کہا کہ ا اور چین کے لیے کہ چین کے بعد
پڑھیں:
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیےیہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔
(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔
نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثریہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔
نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعملامریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔
برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔
جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔
دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملیدریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔
امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔
ادارت: مقبول ملک