بھارتی افواج میں خواتین افسران کیساتھ منظم جنسی ہراسانی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
نئی دہلی: (ویب ڈیسک) ہندوستانی فوج جسے ایک منظم، شفاف اور حب الوطنی کا مظہر قرار دیا جاتا ہے، حقیقی طور پر اپنی خواتین افسران کو جنسی ہراسانی، جسمانی حملوں اور دھمکیوں سے محفوظ رکھنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
اس کے اندرونی نظام کی خرابی اچھے ماحول کی حامل فوج کی دعویدار اقدار کا خاتمہ کرتے ہیں اور اس کی ملٹری قیادت میں گہری اخلاقی و ادارہ جاتی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔
سنہ 2025 میں پٹیالہ کے 1 آرمڈ ڈویژن میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا، جہاں ایک خاتون میجر نے ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا، قانون کے مطابق “جنسی ہراسانی کے خاتمے، روک تھام اور شکایات کے ازالے کے قانون 2013” (POSH Act) کے تحت کارروائی ہونا چاہیے تھی، لیکن فوجی حکام نے اسے نظرانداز کرتے ہوئے ایک داخلی “انکوائری” شروع کی اور لازمی انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی (ICC) کے عمل کو بالکل نظرانداز کیا۔
رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ متاثرہ خاتون پر دباؤ ڈال کر شکایت واپس لینے کی کوشش کی گئی، جو خواتین افسران کی حفاظت اور وقار کے لئے مکمل بے اعتنائی کی علامت ہے۔
یہ کیس ایک الگ واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ دہائی میں ہندوستانی فوج میں خواتین افسران کے خلاف جاری ایک سنگین اور خطرناک رجحان کا حصہ ہے:
* کپتان بمقابلہ سینئر کرنل، سگنل کور، 2015 – ایک کپتان نے اپنے سینئر کرنل پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا، ابتدائی فوجی ردعمل سست اور ناکافی تھا، حالانکہ کمیٹی نے بعد میں ابتدائی شواہد ملنے کی تصدیق کی، جو فوج میں احتساب کی تاخیر اور نظامی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
*میجر کی جنرل کورٹ مارشل میں سزا، 2021–2025 – ایک میجر نے اپنے کوارٹرز میں 11 سالہ گھریلو ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی، واضح شواہد اور متاثرہ کی مستقل شہادت کے باوجود صرف عدالت کی مداخلت کے بعد انصاف ہوا، جو فوجی داخلی احتساب میں سنگین خامیوں کو اجاگر کرتا ہے۔
*ہندوستانی فضائیہ کی خاتون افسر، سری نگر، 2024 – ایک خاتون افسر نے ونگ کمانڈر کی جانب سے طویل ہراسانی، جسمانی حملے اور ذہنی اذیت کی رپورٹ دی، پولیس کیس درج کرنے کے باوجود ملزم کو انتظار میں ضمانت مل گئی، جو ادارہ جاتی جانبداری اور متاثرین کے لئے انصاف کے حصول میں شدید رکاوٹوں کو ظاہر کرتا ہے۔
*بریگیڈیئر پر کرنل کی اہلیہ کی جانب سے الزام، میگھالیہ، 2024–2025 – شلوںگ میں، ایک بریگیڈیئر نے کرنل کی اہلیہ کو ہراساں کیا، دھمکیاں دیں اور ناپسندیدہ پیشکشیں کیں، پولیس تحقیقات کے باوجود کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، جو نفاذ اور احتساب میں سنگین تاخیر کو بے نقاب کرتا ہے۔
* انڈور گروپ حملے کا کیس، مدھیہ پردیش، 2024 – فوجی افسران اور ساتھیوں نے ہجوم پر حملہ اور جنسی زیادتی میں حصہ لیا، جو افسران اور ان کے خاندان کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
*اوڑیسہ میں مبینہ کور اپس، 2025 – کرنل امیت کمار نے سینئر جنرلز اور بریگیڈیئرز پر اپنی بیوی کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام لگایا، رپورٹ کرنے کے باوجود پولیس نے مبینہ طور پر متاثرین کو دھمکیاں دیں اور نہ تو FIR درج کی گئی نہ تحقیقات کی گئیں، جو نظامی بدعنوانی کو ظاہر کرتا ہے۔
*غیر قانونی تعلقات پر کورٹ مارشل، چندی گڑھ، 2025 – ایک کرنل کو کسی دوسری افسر کی بیوی کے ساتھ تعلقات اور ہوٹل میں قیام کے سلسلے میں فارغ کیا گیا، یہ واقعہ فوجی نظم و ضبط اور مورال کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور سینئر قیادت میں اخلاقی و اخلاقی انحطاط کو واضح کرتا ہے۔
ہندوستانی فوج میں خواتین افسران نہ صرف اپنے سینئرز بلکہ دھمکی، خاموشی اور عدالتی تاخیر کے ایک وسیع کلچر کا سامنا کرتی ہیں، فوجی درجہ بندی اور رینک کے غلط استعمال سے مجرموں کو احتساب سے بچنے کی سہولت ملتی ہے، جبکہ متاثرین پر شکایات واپس لینے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔
*قانونی فریم ورک، جیسے POSH قانون، اکثر نظرانداز کئے جاتے ہیں اور موثر انٹرنل کمپلینٹس کمیٹیاں نہ ہونے سے خواتین کی حفاظت کمزور پڑ جاتی ہے۔
*دیہی اور باغی علاقوں میں فوجی دائرہ اختیار اور AFSPA کی دفعات شہری عدالتی نگرانی کو محدود کرتی ہیں، جس سے متاثرین کے لئے قانونی چارہ جوئی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے، رپورٹنگ میں اضافہ کے باوجود حقیقی ادارہ جاتی اصلاحات اور سخت نفاذ کی کمی نے خواتین کیلئے دشمنانہ ماحول پیدا کیا ہے، جو ملک کی خدمت کرنے والی خواتین افسران کیلئے خطرناک ہے۔
یہ کیسز، جو 2015 سے 2025 تک بھارتی میڈیا رپورٹس اور عدالتی ریکارڈز سے تصدیق شدہ ہیں، واضح کرتے ہیں کہ ہندوستانی فوج کے ظاہری عزت، نظم و ضبط اور حب الوطنی کے دعوے سسٹمیٹک جنسی ہراسانی، طاقت کے غلط استعمال اور ادارہ جاتی لاپروائی سے بھرے ہوتے ہیں، وہ خواتین افسران جو ملک کی حفاظت میں اپنی جان کی بازی لگاتی ہیں، بدعنوانی اور ہراسانی کے سامنے بے بس رہتی ہیں، جس سے بھارتی فوج میں شفاف اصلاحات اور حقیقی احتساب کی کمی پائی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم