27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ کب سامنے آئےگا؟ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگلے ہفتے آئینی ترمیم کی کوئی شکل سامنے آ جائے گی، تمام پارٹیوں سے مشاورت کے بعد آئینی ترمیم کا مسودہ سامنے لائیں گے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو کا حق ہے کہ وہ کسی بھی معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں، اگر انہوں نے ٹوئٹ کی ہے تو اس میں کچھ غلط نہیں۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو اہم ٹاسک دے دیا گیا
پاک افغان مذاکرات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہاکہ ہمارا وفد استنبول روانہ ہوگیا ہے اور کل افغان وفد کے ساتھ بات چیت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ہمارا افغانستان سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ خطے میں امن کے لیے افغانستان کو دانشمندی سے کام لینا چاہیے، اگر بات چیت میں پیشرفت کا امکان نہ ہو تو پھر مذاکرات وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں۔
واضح رہے کہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم لانے کا اعلان کردیا ہے، جس کے لیے اتحادی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا آغاز کردیا گیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے 6 نومبر کو پارٹی کی سی ای سی کا اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت سے متعلق فیصلہ کیا جائےگا۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم آئین اور پارلیمنٹ کی روح کے منافی ہے، بیرسٹر گوہر
دوسری جانب پی ٹی آئی نے مزاحمت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے کیوں کہ یہ وفاق پر براہ راست حملہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئینی ترمیم اتحادی جماعتیں بلاول بھٹو پی ٹی آئی خواجہ آصف وزیر دفاع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اتحادی جماعتیں بلاول بھٹو پی ٹی ا ئی خواجہ ا صف وزیر دفاع وی نیوز 27ویں ا ئینی ترمیم ئینی ترمیم کی وزیر دفاع کے لیے
پڑھیں:
کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔
صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔
انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔
گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔
انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔
ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گورنر سندھ نہال ہاشمی