بلاول بھٹو کی ٹویٹ میں جو جو لکھا ہے وہ آئین کو ختم کرنے کے مترادف ہے، سینیٹر علی ظفر
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
راولپنڈی:
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کی ٹویٹ میں جو جو لکھا ہے وہ آئین کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آج اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں کا دن تھا، ان سے ملنے ترجمان بانی پی ٹی آئی نیاز اللہ خان نیازی اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر پانچ پہنچے جہاں انہیں روک دیا گیا۔
سینیٹر علی ظفر، حامد خان ایڈووکیٹ، بیرسٹر گوہر علی خان داہگل ناکہ پہنچے، پولیس نے سب کو داہگل ناکے پر روک دیا۔ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں گورکھ پور ناکہ پہنچیں، علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ، کزن قاسم خان بھی ہمراہ تھے، پولیس نے سب کو گورکھ پور ناکہ پر روک دیا۔
داہگل ناکے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کو آپ گولیوں سے تو مار نہیں سکتے، 27ویں ترمیم سے متعلق بلاول بھٹو کی ٹویٹ آئی ہے، بلاول بھٹو کی ٹویٹ میں جو جو لکھا ہے وہ آئین کو ختم کرنے کے مترادف ہے، حکومت سے جب پوچھا جاتا رہا وہ اس پر خاموش تھے، حکومت والوں کو یا تو پتا نہیں 27ویں ترمیم آرہی یا ان کو پتا ہی نہیں یہ کوئی اور کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ہم سب کا معاملہ ہے، دہشت گردی کو ختم کرنے کے حوالے سے موقف مختلف ہوسکتے ہیں، آپریشنز بھی ہوتے ہیں لیکن ہمیں اس پر یکسوئی سے بات کرنی ہوگی، دہشت گردی کی ایک وجہ غربت اور بے روزگاری بھی ہے، وزیراعلٰی کے پی کو صوبہ چلانا ہے گورننس دیکھنی ہے، وزیراعلٰی ایک سیاسی جماعت کے نمائندے ہیں وہ سیاسی بات بھی کرسکتے ہیں، وزیر اعلٰی اگر بانی چیئرمین کی رہائی کی بات کرتے ہیں اس میں کیا غلط ہے؟
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ فلور آف دی ہاؤس آپ ہر وہ بات کرسکتے ہیں جو نیشنل انٹرسٹ میں ہو، اسلام آباد آنے کی کال کے بارے میں نہیں جانتا نہ بانی کی کوئی ہدایات ہیں، اگر ملاقات ہوئی تو مزید ہدایات آسکتی ہیں، ملاقاتوں کی فہرستوں کی بات بہت چھوٹی ہے، ہوسکتا ہے غلطی سے دو فہرستیں جاری ہوئی ہوں آئندہ نہیں ہوں گی، میں کسی کے خلاف بات نہیں کرتا آج ایک ہی فہرست آئی ہے، مستقبل کی بات کرکے آگے بڑھنا چاہیے۔
ہم نے چھبیسویں ترمیم قبول نہیں کی تو 27ویں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، حامد خان
میڈیا ٹاک میں حامد خان نے کہا کہ ہم نے چھبیسویں ترمیم قبول نہیں کی تو 27ویں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، سب کو پتا ہے یہ کون کروارہا ہے باقی تو سب کھلونے ہیں، جس کے پاس طاقت ہوتی ہے اسی کے بارے میں بات کی جاتی ہے، آزاد کشمیر میں جس طرح گولیاں برسائی گئیں وہ بھی زیادتی ہے، آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کے پیچھے خدا جانے ان کا کیا مقصد ہے؟ لگتا ہے دونوں جماعتوں کو بٹھا کے بتایا گیا ہے 27ویں ترمیم پاس کریں۔
انہوں ںے کہا کہ جو لوگ شاہ محمود قریشی سے ملے وہ بھاگے ہوئے بھگوڑے ہیں، جو لوگ پی ٹی آئی کو چھوڑ کر بھاگ گئے انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے بارے میں بات کریں، یہ لوگ پی ٹی آئی کے غدار ہیں، شاہ محمود قریشی سے کسی کی ملاقات کی کوئی اہمیت نہیں، چھبیسویں ترمیم واپس لیں آئین کے مطابق ملک چلائیں راستہ نکل آئے گا، ہم کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں چاہتے عدالتی نظام سے ریلیف چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بے بسی کی وجہ سے 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کیا ہے، ہمیں عدالتوں سے امید تو نہیں لیکن کوشش جاری رکھیں گے، 27ویں ترمیم کے حوالے سے اصول پر ہر کسی سے بات ہوسکتی ہے، چھبیسویں ترمیم سے پہلے ہم نے مولانا فضل الرحمن صاحب سے بھی بات کی، جو بھی ستائیسویں ترمیم کی مخالفت کرے گا ہم اس کے ساتھ ہیں۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چھبیسویں ترمیم سینیٹر علی ظفر کو ختم کرنے کے 27ویں ترمیم پی ٹی آئی نے کہا کہ آئین کو
پڑھیں:
حکومت پنجاب کابلدیاتی ایکٹ سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے، مفتی عامر محمود
ملتان میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی ملتان کے صدر کا کہنا تھا کہ غیرجماعتی بنیادوں پر الیکشن کا انعقاد سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، حکومت کے بلدیاتی ایکٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جس میں وہ تمام اختیارات نچلی سطح پر عوامی نمائندوں کو دینے کی بجائے سرکار کو نواز نے کے لئے دینا چاہتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام ملتان کے ضلعی امیر مفتی عامرمحمود نے کہا ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں یہاں جمہوریت ہے بادشاہت نہیں، اسی لئے بادشاہی فرمان نہ چلائے جائیں، حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ایک بار پھر قوم کی نگاہیں قائد مولانا فضل الرحمن کے عوام دوست مضبوط بیانیہ پر مرکوز ہیں، حکومت پنجاب کا بلدیاتی ایکٹ سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے، جس کے خلاف جے یو آئی ہر سطح پر اپنی آواز بلند کرے گی اور عوام کے حقوق کے لئے ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی، آئین کے ساتھ کھلواڑ کسی صورت نہیں ہونے دیں گے اور قیادت کے بیانیہ کو عام کرنے کی بھرپور مہم چلائیں گے، 27 دسمبر کو ملتان مدرسہ قاسم العلوم گلگشت میں کنونشن ہوگا جس کی صدارت قائد مولانا فضل الرحمن کریں گے۔
غیرجماعتی بنیادوں پر الیکشن کا انعقاد سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، حکومت کے بلدیاتی ایکٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جس میں وہ تمام اختیارات نچلی سطح پر عوامی نمائندوں کو دینے کی بجائے سرکار کو نوازنے کے لئے دینا چاہتی ہے اور ضلع کونسل کو ختم کرکے بیوروکریسی کے ذریعے انتظامی امور کو چلانا چاہتی ہے، ایوانوں میں بیٹھے عوامی نمائندوں کو عوام سے لئے گئے مینڈیٹ کی پاسداری کرنی چاہیئے ورنہ ا عوام کی طرف سے مسترد کئے جانے کے پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ قاسم العلوم گلگشت میں جے یو آئی ملتان کی ضلعی مجلس شوری کے اراکین سے صدارتی خطاب میں کیا۔
جے یوآئی صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ سیاسی،عوامی اور جمہوری جماعت بھی ہے جس کا پارلیمان میں تاریخی کردار ہے اسی لئے حکومت ہمارے صبر کاامتحان نہ لے اور ہمارے صبر کوکمزوری نہ سمجھا جائے حکومت جس طرح آئمہ مساجد پر چند ٹکوں کے عوض دبا ڈال کر بادشاہانہ غیر مناسب رویہ اختیار کر رہی ہے اور آئمہ مساجد کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور 39 سوالات پر مشتمل ڈیٹا فارم کے زریعے بے گناہ علما کرام کو ہراساں و پریشان کیا جارہا ہے اس کی ملکی تاریخ میں کہیں بھی مثال نہیں ملتی، ہم حکومتی دبا کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔