Jasarat News:
2026-07-24@10:36:18 GMT

روس کا جوہری صلاحیتوں سے لیس بحری ڈرون کا تجربہ

اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک نے ایک جوہری صلاحیتوں والے بحری ڈرون کا تجربہ کیا ہے جسے پوسائیڈن کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اعلان جوہری طاقت سے چلنے والے کروز میزائل کے کامیاب تجربے کے چند روز بعد آیا ہے۔ پیوٹن نے کہا کہ یہ ایسا ڈرون ہے جسے روکنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ہتھیار بھی جوہری طاقت سے چلتا ہے اور جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ڈرون کو ا سٹیٹس 6 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔یہ ایک بڑا جوہری طاقت سے چلنے والا ٹارپیڈو ہے جو جوہری وار ہیڈ سے لیس ہے اور جو پانی کے اندر طویل فاصلے تک خود مختار طور پر سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کے بارے میں پہلی عوامی معلومات 2015 ء میں روسی ٹیلی وژن پر ایک لیک کے ذریعے سامنے آئی تھیں جس میں پانی کے اندر جوہری ڈرون تیار کرنے کے حکومتی منصوبے کا انکشاف ہوا تھا۔ لیک ہونے والی دستاویز میں بتایا گیا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد ساحلی علاقوں میں دشمن کی اقتصادی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانا اور بڑے پیمانے پر تابکاری آلودگی پیدا کرنا ہے۔ یہ ایسی تابکاری ہوسکتی ہے جو ان علاقوں کو طویل عرصے تک فوجی یا اقتصادی سرگرمیوں کے لیے ناقابل استعمال بنا دے۔ 2018 ء میں امریکی محکمہ دفاع کی جوہری پوزیشن کے جائزے کی مسودہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ روس ایک بین البراعظمی جوہری ایندھن والا اور جوہری وار ہیڈ سے لیس خود مختار ٹارپیڈو تیار کر رہا ہے۔ برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے محقق سدھارتھ کوشل کے مطابق اس ٹارپیڈو کی لمبائی تقریباً 20 میٹر ہے۔ یہ تقریباً ایک ہزار میٹر کی گہرائی تک غوطہ لگا سکتا ہے اور اس کی حد کم از کم 10ہزار کلومیٹر ہونے کا اندازہ ہے۔ اس کے برعکس اس کی بہت سی حقیقی صلاحیتیں خفیہ رکھی گئی ہیں ۔ جو بنیادی خصوصیات اس سے منسوب کی جاتی ہیں وہ اس کی گہری گہرائیوں میں اور بہت تیز رفتاری سے کام کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ ایسی رفتار ہے جس کے باعث اسے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پوسائیڈن کی تیاری میزائل دفاعی نظاموں کو چکما دینے والے ہتھیاروں کے نظام کو دکھانے کے ماسکو کے عزائم کی عکاسی کرتی ہے۔پوسائیڈن کو ڈرون کہا جاتا ہے کیونکہ یہ خود مختار طور پر سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ممکنہ طور پر لانچ کے بعد اس کا راستہ تبدیل یا مشن منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ اسے آبدوزوں سے براہ راست لانچ کرنے کے بجائے بعد میں فعال کرنے کے لیے سمندر کی تہ میں نصب کیا جا سکتا ہے جس سے مہنگی اور بڑی آبدوزوں کے ہدف بننے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

 

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی صلاحیت جاتا ہے ہے اور

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل